یہ لڑکیاں گجراتی رقص پیش کریں گی، پورا ہال جھوم اٹھا،ہمیں یوں لگا جیسے کوئی خوبصورت تتلی سٹیج کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک اْڑتی پھر رہی ہو
مصنف کی شناخت
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 223
یہ بھی پڑھیں: ٹی سی ایل کی جانب سے بھوربن میں 2025 ” وژن ” کے عنوان سے شاندار ٹیکنالوجی ایونٹ کا انعقاد
رقص کی محفل
ماتھے پر ہلالی شکل کا جھومر اسلامی کلچر کی نمائندگی کر رہا تھا اور ماتھے کی ہندو سرخ بندیا سے ہم آغوش ہو رہا تھا۔ پورا ہال رقاصہ کی فنی مہارت پر جھوم اٹھا اور تالیوں سے گونج اٹھا۔
یہ بھی پڑھیں: تمباکو نوشی صرف ایک عادت نہیں صحت، معیشت اور معاشرت پر حملہ ہے:وزیراعلیٰ مریم نواز
گجراتی رقص کی پرفارمنس
اس کے بعد سٹیج سیکرٹری نے پرفارمنگ آرٹ کے مشہور انسٹی ٹیوٹ کالا بھارتی سے تعلق رکھنے والی ڈانسرز کو دعوت دی۔ یہ نوجوان لڑکیاں گجراتی رقص پیش کرنے کے لیے آئیں، جنہوں نے خوبصورت ہم آہنگی کے ساتھ گجراتی لوک رقص کا سحر طاری کر دیا۔ اس کے بعد انہی رقاص لڑکیوں نے مشہور کلاسیکل رقص کتھک کا مختصر مظاہرہ کیا۔ یہ رقص گرو مہادیو ریشٹر سے تعلق رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محمد رضوان نے آسٹریلیا کیخلاف دوسرے ٹی ٹوینٹی میں کسے ٹیم میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا؟ بڑا دعویٰ
رقاصہ کی شاندار پرفارمنس
آسمانی رنگ کی دلکش پوشاک میں ملبوس ایک نوجوان رقاصہ نے رقص میں ایسا انداز اپنایا کہ ہمیں یوں لگا جیسے کوئی خوبصورت تتلی سٹیج کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک رقصاں اڑتی پھر رہی ہو۔
یہ بھی پڑھیں: آپ کی رہنمائی کی منتظر
عشائیے کی دعوت
انہی لمحات میں بار کے ایک عہدیدار نے راقم کے کان میں سرگوشی کی، جس پر میں نے فوراً پاکستانی دوستوں کو بتایا کہ بار کی طرف سے ترتیب دئیے گئے عشائیے پر ہمارا انتظار ہو رہا ہے۔ ہم خاموشی سے اْٹھے اور ہال سے باہر نکل آئے۔
یہ بھی پڑھیں: مریم اورنگزیب کی گاڑی کو حادثہ، ترجمان مسلم لیگ ن زخمی ہو گئیں
ٹی وی پر دہشت گردی کا پروگرام
ڈنر سے فارغ ہو کر ہوٹل پہنچے اور اپنے کمرے میں بھارتی ٹی وی پر چینل “زی ٹی وی” کھولا، جہاں دہشت گردی کے حوالے سے ایک پروگرام دکھایا جا رہا تھا۔ اس پروگرام میں صدر پاکستان آصف علی زرداری کے بیانات پر بات چیت ہو رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ، انجینئر محمدعلی مرزا کو گستاخی کا مرتکب قرار دینے کی اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے پر حکمِ امتناع برقرار
زرداری کے بیانات کا تجزیہ
بیانات میں یہ کہا گیا تھا کہ طالبان کو پاکستان نے روس اور دیگر ممالک کے لیے تیار کیا تھا، لیکن نائن الیون کے واقعے کے بعد صورتحال میں تبدیلی آئی۔ اس دباؤ کے تحت پاکستان کو طالبان کے خلاف کارروائی کرنا پڑا، جس کے رد عمل میں پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں آگیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت زخموں پر اصلاح کا مرہم لگائے
بھارت کے وزیر دفاع کا تبصرہ
ٹیلی ویژن پر زرداری کے مسکراتے چہرے کی تصویر دکھائی گئی اور تبصرہ کرنے کے لئے سابق بھارتی وزیر دفاع بھرت ورما کو بلایا گیا۔ ان سے سوال کیا گیا کہ زرداری کے اس بیان کے بعد پاک، بھارت تعلقات میں بہتری کے امکانات کیا ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: 15 ماہ کی حاملہ: بانجھ خواتین کو معجزاتی طریقوں سے حمل ٹھہرانے کا دھوکہ کیسے بے نقاب ہوا؟
بھارت کی پالیسی پر تنقید
بھرت ورما نے کہا، "زرداری کے قبولی بیان کی کوئی اہمیت نہیں، کیونکہ پاکستان میں کبھی جمہوری حکومت قائم نہیں ہوئی۔ اس وقت 2009 میں پاکستان پر فوج اور آئی ایس آئی کی حکومت ہے۔" انہوں نے بھارت کی کمزور پالیسیوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بھارت کو اپنی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے ایک سپر طاقت کے طور پر کھڑا ہونا چاہیے۔
جاری ہے
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی نظر سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








