آئی ایم ایف کو پاکستان میں مسلسل بدعنوانی کے خدشات، گورننس اینڈ کرپشن رپورٹ جاری

آئی ایم ایف کی رپورٹ: بدعنوانی اور گورننس کی صورتحال

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان میں گورننس اور بدعنوانی سے متعلق رپورٹ جاری کر دی، جس میں پاکستان میں مسلسل بدعنوانی کے خدشات کی نشاندہی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نشے کی لت میں مبتلا ہونے کے الزام پر ایلون مسک رد عمل بھی آگیا

اصلاحاتی ایجنڈا

روزنامہ جنگ کے مطابق، 15 نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا فوری شروع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے آئی ایم ایف نے کہا کہ اصلاحات سے پاکستان کی معیشت 5 سے 6.5 فیصد تک بہتر ہوسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران پر اسرائیلی حملوں کے مناظر

سرکاری اداروں کی اصلاحات

رپورٹ میں اہم سرکاری اداروں کو حکومتی ٹھیکوں میں خصوصی مراعات ختم کرنے، ایس آئی ایف سی کے فیصلوں میں شفافیت بڑھانے اور حکومت کے مالیاتی اختیارات پر سخت پارلیمانی نگرانی کی سفارش کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا نیٹ رن ریٹ منفی ہوگیا، سپرایٹ مرحلے کے لیے آخری میچ جیتنا ہوگا

انسداد بدعنوانی کی ضروریات

آئی ایم ایف نے انسدادِ بدعنوانی اداروں میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی اور عملدرآمد میں زیادہ شفافیت اور جواب دہی ضروری ہے، گورننس بہتر بنانے سے نمایاں معاشی فائدے حاصل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے اجیت دوول کی جانب سے 9 اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کا دعویٰ مسترد کر دیا

ٹیکس نظام کی پیچیدگیاں

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس سسٹم پیچیدہ، کمزور انتظام اور نگرانی بدعنوانی کا باعث ہے، جبکہ عدالتی نظام کی پیچیدگی اور تاخیر معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کوبرا سانپ کے گوشت کے شوقین، دانتوں کی صفائی نہ کرنے والے، اور عوام کے خوف میں مبتلا آمروں کی دلچسپ کہانیاں

ای گورننس کی ہدایت

آئی ایم ایف نے ایس آئی ایف سی کی جانب سے سالانہ رپورٹ فوری جاری کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے تمام سرکاری خریداری 12 ماہ میں ای گورننس سسٹم پر لانے کی ہدایت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آئندہ 30 دنوں میں لیپ ٹاپ سکیم کے اجراء کی ڈیڈ لائن،کتنے لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائیں گے ؟ جانیے.

مالی شفافیت پر سوالات

ایس آئی ایف سی کے اختیارات، استثنیٰ اور شفافیت پر آئی ایم ایف نے سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب میں کمی بدعنوانی کے خطرات کی علامت ہے، بجٹ اور اخراجات میں بڑے فرق سے حکومتی مالیاتی شفافیت پر سوالات ہیں۔

معاشی نقصان کا جائزہ

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوری 23 تا دسمبر 24 نیب کی 5.3 ٹریلین روپے کی ریکوری معیشت کو پہنچے نقصان کا کم حصہ ہے، جبکہ پی ٹی آئی حکومت کی 2019 میں چینی برآمد کی اجازت ظاہر کرتی ہے کہ اشرافیہ اپنے مفاد کے لیے پالیسوں پر قابض ہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...