کیا ریلوے زمین پر قبضہ روکنے والا کوئی ہے یا نہیں؟ آئینی عدالت کے ریمارکس، ریلوے اراضی پر تجاوزات اور قبضہ کی رپورٹ طلب کرلی
ریلوے اراضی پر تجاوزات کی سماعت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی آئینی عدالت نے ریلوے اراضی پر تجاوزات اور قبضہ کی رپورٹ طلب کرلی۔ جسٹس حسن رضوی نے استفسار کیا کہ ریلوے زمین پر قبضہ روکنے والا کوئی ہے یا نہیں؟ ریلوے کی زمین قوم کی امانت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں مقامی و ریاستی انتخابات کیلئے ووٹنگ
عدلیہ کے سوالات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ ریلوے نے ملکیتی زمین کی واپسی کیلئے کیا اقدامات اٹھائے؟ جسٹس حسن رضوی نے مزید پوچھا کہ کیا ریلوے زمین پر قبضہ روکنے والا کوئی ہے یا نہیں؟ قیام پاکستان کے وقت کتنی ٹرینیں چلتی تھیں؟ آج ریلوے کی ٹرینیں اور پٹریاں آدھی رہ گئی ہیں، جبکہ ریلوے کی زمین پر کچی آبادیاں، انڈسٹری اور گوٹھ بن گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نہ کوئی وی پی این بلاک کیا اور نہ ہی کریں گے، چیئرمین پی ٹی اے
تجاوزات کے اثرات
جسٹس حسن اظہر رضوی نے سوال کیا کہ کیا ریلوے کو تجاوزات اور قبضہ کیلئے زمین دی گئی تھی؟ انہوں نے یاد دلایا کہ ریلوے کے بہترین کلب اور ہسپتال بھی ختم ہو چکے ہیں۔ اگر ریلوے کی ساری زمین واپس مل جائے تو پھر کیا کریں گے؟
یہ بھی پڑھیں: چائلڈ لیبر قطعاً برداشت نہیں، بچے میری ریڈ لائن ہیں: وزیراعلیٰ مریم نواز
ریلوے کے وکیل کا جواب
عدالت نے ریلوے کے وکیل سے پوچھا کہ کیا ریلوے کی زمین کو زیراستعمال لانے کا کوئی پلان ہے؟ وکیل نے بتایا کہ راولپنڈی میں ریلوے کی 1359 کنال زمین کچی آبادی کو دیدی گئی، جبکہ راولپنڈی کا ریلوے سٹیشن بھی اسی اراضی میں شامل ہے۔ پنجاب نے اپنی غلطی تسلیم کر لی ہے اور 1288 کنال اراضی واپس ریلوے کے نام منتقل ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں گلابی چاند دیکھنے کا شاندار موقع، کب اور کیسے دیکھا جا سکے گا؟ جانیے
افسران کی ذمہ داری
جسٹس حسن اظہر رضوی نے یہ بھی کہا کہ ریلوے کے افسران ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھے رہتے ہیں، اور اگر افسران اے سی روم میں بیٹھیں گے تو زمینوں پر قبضہ ہی ہوگا۔
صوبائی حکومت کی پوزیشن
عدالت نے یہ سوال کیا کہ صوبائی حکومت نے وفاقی زمین کچی آبادی کو کیسے الاٹ کردی؟ جسٹس حسن اظہر رضوی نے پوچھا کہ ریلوے کو تجاوزات کے خاتمے سے کس نے روکا ہے؟ وفاقی آئینی عدالت نے ریلوے اراضی پر تجاوزات اور قبضہ کی رپورٹ طلب کر لی ہے۔








