2018 کے حالات کے ذمہ دار قمر جاوید باجوہ، کورٹ مارشل ہونا چاہیے، خواجہ آصف
خواجہ آصف کا بیان
اسلام آباد (آئی این پی) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ 2018 کے حالات کے ذمہ دار جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ ہیں، میں تو کہتا ہوں ان کا کورٹ مارشل ہونا چاہیے، انہوں نے اس ملک کے ساتھ جو کچھ کیا ان کا ٹرائل ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے نے برطانیہ کے لیے فلائٹ آپریشن میں توسیع کا بڑا فیصلہ کر لیا
27ویں ترمیم کی اہمیت
ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 27 ویں ترمیم کے بعد ملک کے نظام میں کافی بہتری آئے گی، ترمیم کی منظوری سے پہلے کچھ چیزیں مشاورت کے بعد ڈراپ کی گئیں۔ ملک میں بلدیاتی نظام کی تجویز بھی ترمیمی ڈرافٹ میں شامل تھی، وفاق بیرونی قرضہ لے کر بہت سا پیسہ صوبوں کو بھی دیتا ہے۔ بیرونی قرضوں کی واپسی اور دفاع کے بجٹ میں صوبوں کو بھی کچھ بوجھ اٹھانا چاہیے۔ تمام عالمی قرضوں کا بوجھ صرف وفاق اٹھاتا ہے، دفاع صرف اسلام آباد کا ہی نہیں پورے پاکستان کا ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دالوں اور دیگر اشیا خورونوش کی قیمتوں میں 20 سے 60 روپے تک کمی کا نوٹیفکیشن جاری
بلدیاتی نظام میں بہتری
میرا ذاتی خیال ہے کہ ملک میں ایک مضبوط بلدیاتی نظام ہونا چاہیے۔ ملک میں بلدیاتی نظام موجود ہے مگر نچلی سطح تک مضبوطی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈکٹیٹر ادوار میں ملک کے اندر بلدیاتی نظام میں مضبوطی آئی، جو بھی پارٹی اقتدار میں آنے کے بعد بلدیاتی نظام بہتر نہیں کرتی تو وہ اپنا نقصان کرتی ہے۔ بلدیاتی نظام کی مضبوطی نہ ہونے میں تمام صوبائی حکومتوں کی رکاوٹیں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فہیم اشرف نے بابر اعظم کی کارکردگی خراب ہونے کی وجہ بتا دی
وزیر اعظم کی کوششیں
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم محدود وسائل کے باوجود تمام صوبوں کیلئے فنڈز کی فراہمی یقینی بنا رہے ہیں، ترمیم کے مطابق ججز کے ٹرانسفر کرنا ایگزیکٹو کا اختیار نہیں ہے۔ آئین میں کبھی بھی ترامیم کسی فرد واحد کیلئے نہیں کی جاتیں۔
یہ بھی پڑھیں: یرسٹر محمد علی سیف کی اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
نواز شریف کے بارے میں رائے
وزیر دفاع نے کہا ساری دنیا مانتی ہے کہ پانامہ کے حوالے سے نواز شریف کے ساتھ غلط ہوا، نواز شریف کی نااہلی کا کیس نچلی عدالتوں میں نہیں سیدھا سپریم کورٹ میں چلایا گیا۔ جب نواز شریف کی نااہلی کا عمل چل رہا تھا تب کیا ججز کے ضمیر سوئے ہوئے تھے؟ آج بہت تنقید ہو رہی ہے کہ عدلیہ پر ڈاکا ڈالا گیا۔ 27 ویں ترمیم کی منظوری سے پہلے تمام جماعتوں کو مشاورت کیلئے مدعو کیا گیا، 28 ویں ترمیم کیلئے بھی بشمول اپوزیشن سب سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: لڑکی کے بال کاٹنے کا کیس، ملوث 2 ملزمان افغان شہری نکلے،ابتدائی تحقیقات میں سنگین انکشافات سامنے آگئے
عورتوں کا احترام
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ میں خواتین کی بے حرمتی کے حوالے سے کسی بھی اقدام کی حمایت نہیں کروں گا، جتنا مرضی اختلاف ہو خواتین کا احترام قائم رکھنا چاہیے۔ پی ٹی آئی نے اپنے دور حکومت میں لوگوں کے ساتھ جو کچھ کیا وہ سب کے سامنے ہے۔
افغانستان کی سرحدی خلاف ورزیاں
انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان سے اب بھی سرحد کی خلاف ورزی کی جارہی ہے، وانا کیڈٹ کالج اور اسلام آباد کچہری میں حملے کیلئے لوگ افغانستان سے ہی آئے۔ خطے میں قیام امن کیلئے دوست ممالک قطر، چین و دیگر کوشش کر رہے ہیں، قیام امن میں حائل بڑی رکاوٹ بھارت کا افغان رجیم پر پڑنے والا اثر ہے۔








