مہنگی کتابیں اور یونیفارم فروخت کرنے پر 17 بڑے نجی سکول سسٹمز کو شوکاز نوٹس جاری
کمپٹیشن کمیشن کا بڑا اقدام
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) مسابقتی کمیشن نے مہنگی کتابیں اور یونیفارم فروخت کرنے پر 17 بڑے نجی سکول سسٹمز کو شوکاز نوٹس جاری کر دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کی نجکاری سے حکومت کو 55 ارب روپے حاصل ہوں گے: محمد علی، عطا تارڑ
نوٹس کی تفصیلات
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق کمیشن نے نجی سکولز کو 14 دن میں تحریری جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کمیشن ایسے سکول سسٹمز پر ساڑھے 7 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں بجلی کی خریدوفروخت کے لیے نیا نظام لاگو کر دیا گیا
مہنگے لوگو والی نوٹ بکس
کمیشن کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ جن سکول سسٹمز کو شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے اُن میں طلباء کو مہنگی لوگو والی نوٹ بکس اور یونیفارمز خریدنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ لوگو والی کاپیاں مارکیٹ سے 280 فیصد تک مہنگی پائی گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی آج غزہ میں فوری جنگ بندی کی قرارداد پر ووٹنگ کرے گی
والدین کی مشکلات
کمیشن کا کہنا ہے کہ والدین سستے متبادل بازار سے نہیں خرید سکتے، اور ’یرغمال صارفین‘ بن جاتے ہیں جبکہ یہ مشروط فروخت کمپٹیشن ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے قافلے پر پولیس کی شیلنگ
بہت سے طلباء متاثر
نجی سکول سسٹم ملک بھر میں ہزاروں کیمپس چلاتے ہیں، لاکھوں طلباء اور والدین ان پالیسیوں سے متاثر ہوتے ہیں۔
دوسرے کاروبار پر اثر
کمیشن کے مطابق نئے ایڈمیشن کے اخراجات اور سفری مشکلات کے باعث سکول تبدیل نہیں کیا جا سکتا جبکہ اس عمل سے ہزاروں سٹیشنری اور یونیفارم فروش چھوٹے کاروبار بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔








