قیدی ملنا نہیں چاہتا تو جیل حکام زبردستی نہیں ملوا سکتے، سہیل آفریدی کے خط پر عظمیٰ بخاری کا جواب
لاہور میں وزیراطلاعات پنجاب کا بیان
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ اگر کوئی قیدی ملنا نہیں چاہتا تو جیل حکام زبردستی ملاقات نہیں کروا سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: 22 دن تک اپنے گھر میں حراست میں رہ کر 51 لاکھ روپے گنوانے والے شخص کی کہانی: ‘میں نوسربازوں کو باتھ روم جانے سے پہلے بھی بتاتا’
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا خط اور جواب
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے خط پر جواب دیتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جیلوں میں قیدیوں سے ملاقاتیں کروانے سے وزیراعلیٰ پنجاب کا کوئی لینا دینا نہیں۔ مریم نواز کبھی بھی کسی سرکاری افسر کے کام میں مداخلت نہیں کرتیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کے صدر مسعود پزشکیان پاکستان پہنچ گئے
جیل میں ملاقاتوں کے بارے میں قواعد
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ جیل رولز کے مطابق سیاسی میٹنگز کی اجازت نہیں ہوتی اور جیل سپرنٹنڈنٹ اس حوالے سے فائنل اتھارٹی ہے۔ جیل حکام قیدی کے عزیز و اقارب سے ملاقاتیں کرواتے ہیں جب کہ ملاقاتیوں کے نام قیدی کی طرف سے دیے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: او آئی سی کے نمائندہ خصوصی کی قیادت میں اعلیٰ سطحی وفد کا مظفرآباد، آزاد جموں و کشمیر کا دورہ
قیدی کی مرضی کی اہمیت
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی قیدی کسی سے نہیں ملنا چاہتا تو جیل حکام زبردستی اس کی ملاقات نہیں کرواسکتے۔ بانی پی ٹی آئی سے ہفتے میں 2 دن ملاقاتیں ہوتی ہیں۔ اب تک بانی پی ٹی آئی سے ان کے وکلا کی 420 اور فیملی کے لوگوں کی 189 ملاقاتیں ہوچکی ہیں جب کہ بشریٰ بی بی کے اہل خانہ کی ملاقاتیں اس سے الگ ہیں۔
سہیل آفریدی پر تنقید
صوبائی وزیر نے کہا کہ پھر بھی ہر ہفتے جیل کے باہر جلسہ کیا جاتا ہے۔ سہیل آفریدی ہمیں قانون پڑھانے سے پہلے خود قانون پڑھیں۔ سہیل آفریدی 9مئی کے سزا یافتہ مجرمان کے ساتھ کھڑے ہوکر جلسے کرتے ہیں اور سرکاری افسران کو دھمکیاں دیتے ہیں۔








