سہیل آفریدی کی الیکشن کمیشن کے نوٹس کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ محفوظ
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پشاور ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی الیکشن کمیشن نوٹس کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے پاکستان کو پہلے ٹی20 میں باآسانی 7 وکٹوں سے شکست دے دی
سماعت کا آغاز
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پشاور ہائیکورٹ میں سہیل آفریدی کی الیکشن کمیشن نوٹس کے خلاف درخواست پر سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل بنچ نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: سوات: مٹہ میں اے این کے مقامی رہنما پر قاتلانہ حملہ
الیکشن کمیشن کا نوٹس
دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے نوٹس میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ نے دھمکی آمیز الفاظ استعمال کیے۔ خود نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جلسہ حویلیاں میں تھا جو این اے 18 کی حدود میں نہیں، نوٹس میں کہا گیا کہ الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: برازیل میں تند و تیز آندھی، ‘سٹیچو آف لبرٹی’ گرگیا
وزیراعلیٰ کے وکیل کا موقف
وزیراعلیٰ کے وکیل نے جلسے میں کی گئی تقریر کی ٹرانسکرپشن پڑھ کر سنائی اور کہا کہ وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ کوئی دھاندلی کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے ستلج نے وہاڑی کے مقام پر تباہی مچا دی، درمیانے درجے کا سیلاب برقرار
جسٹس کا تبصرہ
جسٹس وقار احمد نے کہا کہ آپ کے خلاف الیکشن کمیشن نے کوئی کارروائی تو نہیں کی، آپ الیکشن کمیشن کی کارروائی میں شامل ہوجائیں، تھوڑا انتظار کریں۔ جسٹس ارشد علی نے کہا کہ جب الیکشن کمیشن کوئی سخت ایکشن لے تب ہمارے پاس آئیں، آپ اپنے لیے مسائل خود پیدا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کے ساتھ جاری تنازعے کے دوران ایرانی پارلیمنٹ نے بڑا قدم اٹھا لیا
عدالتی کارروائیاں
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے خلاف 2 کارروائیاں چل رہی ہیں، ایک کارروائی ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفس اور دوسری الیکشن کمیشن کی ہے۔ پہلے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ کارروائی مکمل کرے پھر الیکشن کمیشن کرے۔ الیکشن کمیشن نے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر کو بائی پاس کر کے نوٹس دیا، الیکشن کمیشن کے پاس اس کا اختیار نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات سے تیل کے دو جہاز پاک بحریہ کے حفاظتی حصار میں کراچی پہنچ گئے
الیکشن کمیشن کے نمائندے کا بیان
الیکشن کمیشن کے نمائندے نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی کا اختیار ہے، انتخابات کے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ الیکشن کمیشن کے عملے کو دھمکانا بھی ضابط اخلاق کی خلاف ورزی میں آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دوسرا ٹیسٹ: جنوبی افریقہ کے خلاف دوسرے دن پاکستان کی بیٹنگ جاری ہے
عدالت کا ردعمل
جسٹس سید ارشد علی نے الیکشن کمیشن کے نمائندے سے استفسار کیا کہ ابھی تو الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ کو نااہل یا کام سے نہیں روکا؟
یہ بھی پڑھیں: عیدالفطر کب ہوگی؟ بین الاقوامی فلکیاتی مرکز نے شوال کے چاند کے حوالے سے نئی پیشگوئی کر دی
وزیراعلیٰ کے وکیل سے سوالات
جسٹس ارشد علی نے وزیراعلیٰ کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کے تحفظات کیا ہیں؟ جس پر وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن وزیراعلیٰ کے خلاف فوجداری سمیت کوئی بھی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔
فیصلے کا اعلان
جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ ہم اس میں آرڈر کرتے ہیں، عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا。








