سہیل آفریدی کی الیکشن کمیشن کے نوٹس کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ محفوظ
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پشاور ہائی کورٹ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی الیکشن کمیشن نوٹس کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرہ زرعی کمرشل صارفین کے اگست کے بجلی بل دسمبر تک مؤخر
سماعت کا آغاز
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پشاور ہائیکورٹ میں سہیل آفریدی کی الیکشن کمیشن نوٹس کے خلاف درخواست پر سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس وقار احمد پر مشتمل بنچ نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کو تاریخی شکست، پاکستان عالمی سطح پر سرخرو ہوا: پیپلز پارٹی
الیکشن کمیشن کا نوٹس
دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے نوٹس میں کہا گیا کہ وزیراعلیٰ نے دھمکی آمیز الفاظ استعمال کیے۔ خود نوٹس میں کہا گیا ہے کہ جلسہ حویلیاں میں تھا جو این اے 18 کی حدود میں نہیں، نوٹس میں کہا گیا کہ الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان جا کر ایسا لگا کہ کینیڈا میں گھوم رہے ہیں: گپی گریوال
وزیراعلیٰ کے وکیل کا موقف
وزیراعلیٰ کے وکیل نے جلسے میں کی گئی تقریر کی ٹرانسکرپشن پڑھ کر سنائی اور کہا کہ وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ کوئی دھاندلی کرے گا تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: آدھے تمھارے آدھے میرے
جسٹس کا تبصرہ
جسٹس وقار احمد نے کہا کہ آپ کے خلاف الیکشن کمیشن نے کوئی کارروائی تو نہیں کی، آپ الیکشن کمیشن کی کارروائی میں شامل ہوجائیں، تھوڑا انتظار کریں۔ جسٹس ارشد علی نے کہا کہ جب الیکشن کمیشن کوئی سخت ایکشن لے تب ہمارے پاس آئیں، آپ اپنے لیے مسائل خود پیدا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیر، غزہ اور ایران میں بیوہ ہونیوالی خواتین عالمی ضمیر پر چبھتا سوال ہیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز
عدالتی کارروائیاں
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے خلاف 2 کارروائیاں چل رہی ہیں، ایک کارروائی ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفس اور دوسری الیکشن کمیشن کی ہے۔ پہلے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ کارروائی مکمل کرے پھر الیکشن کمیشن کرے۔ الیکشن کمیشن نے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ افسر کو بائی پاس کر کے نوٹس دیا، الیکشن کمیشن کے پاس اس کا اختیار نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کہتے ہیں کہ ملک بھی اُن کا ہے اور فوج بھی، ادارے کا سیاست میں کردار نہیں ہونا چاہیے، علی محمد خان
الیکشن کمیشن کے نمائندے کا بیان
الیکشن کمیشن کے نمائندے نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائی کا اختیار ہے، انتخابات کے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے۔ الیکشن کمیشن کے عملے کو دھمکانا بھی ضابط اخلاق کی خلاف ورزی میں آتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج کے کرنل کا اپنے اعلیٰ افسران پر اہلیہ سے زیادتی کا الزام
عدالت کا ردعمل
جسٹس سید ارشد علی نے الیکشن کمیشن کے نمائندے سے استفسار کیا کہ ابھی تو الیکشن کمیشن نے وزیراعلیٰ کو نااہل یا کام سے نہیں روکا؟
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت آصف علی زرداری چین کے سرکاری دورے پر چینگ ڈو پہنچ گئے
وزیراعلیٰ کے وکیل سے سوالات
جسٹس ارشد علی نے وزیراعلیٰ کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کے تحفظات کیا ہیں؟ جس پر وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن وزیراعلیٰ کے خلاف فوجداری سمیت کوئی بھی کارروائی شروع کر سکتا ہے۔
فیصلے کا اعلان
جسٹس سید ارشد علی نے کہا کہ ہم اس میں آرڈر کرتے ہیں، عدالت نے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا。








