جمہوریت کا خواب اور موجودہ حقیقت
تحریر : میاں محمد عاصم نصیر
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی بیٹنگ کے دوران ڈرنکس بریک میں کھلاڑیوں کو کہاکہ اصل گیم اب شروع ہوگی، بھارتی کپتان سوریا کمار یادیو
جمہوریت کا تعارف
جمہوریت کسی بھی ملک کی سیاسی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ یہ نظام حکومت عوام کو نہ صرف حق رائے دہی دیتا ہے بلکہ انہیں فیصلہ سازی میں براہِ راست شامل ہونے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ جمہوریت کی بنیاد شہری آزادی، شفاف فیصلے، عدل و انصاف اور مساوات پر استوار ہوتی ہے۔ یہ وہ نظام ہے جو طاقتور کو جوابدہ بناتا، اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دیتا اور معاشرے میں انصاف اور ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کے کیسز کے حوالے سے بڑا فیصلہ کر لیا
عوام کی طاقت
جمہوریت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ عوام کو طاقتور بناتی ہے۔ ہر شہری کا ووٹ اس کی آوز ہے، اس کی رائے کا احترام کیا جاتا ہے اور یہ نظام انہیں ملکی پالیسیوں اور فیصلوں میں براہِ راست شریک ہونے کا حق دیتا ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار، سماجی انصاف اور اقتصادی ترقی جیسے مسائل میں عوام کا حصہ لینے کا حق جمہوریت کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ آزاد میڈیا، شفاف عدلیہ اور سول ادارے اس کے بنیادی ستون ہیں، جو یہ یقینی بناتے ہیں کہ عوام کا حق رائے دہی محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ مؤثر عمل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے عوامی حلقوں نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی سوانح حیات کو قومی نصاب میں شامل کرنے کا مطالبہ کر دیا
جمہوریت میں عوام کی شراکت
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں جمہوریت نے شہریوں کو طاقت دی ہے، انہیں تحفظ فراہم کیا ہے اور ترقی کے بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں۔ شہری اپنی رائے استعمال کر کے حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور اگر حکومت ناکام ہو جائے تو نئے انتخابات کے ذریعے تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ جمہوریت شہریوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے اور قانون کے دائرے میں رہ کر احتجاج کرنے کی آزادی بھی دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان، افغانستان اور یو اے ای کے درمیان سہ ملکی سیریز کا شیڈول جاری
جمہوریت کا چیلنج
تاہم ہر نظام کی طرح جمہوریت بھی محض آئین یا قانون تک محدود نہیں رہ سکتی۔ یہ نظام عوام کی شراکت، شعور اور ذمہ داری پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر عوام اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہیں، سیاسی عمل میں شریک ہوتے ہیں اور اپنے حقوق کے لیے سرگرم رہتے ہیں، تو جمہوریت مضبوط اور پائیدار بن جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: باتیں اور دعوے آسان ہیں، کام کے لیے باہر نکلنا پڑتا ہے، تنقید کرنے والوں کی بے بسی سمجھتی ہوں، وزیراعلیٰ مریم نواز
پاکستان میں جمہوریت کی تاریخ
پاکستان میں جمہوریت کی تاریخ ہمیشہ آسان نہیں رہی۔ عوامی توقعات کبھی پوری نہیں ہوئیں اور سیاسی رہنما اکثر اپنے وعدوں پر عمل کرنے میں ناکام رہے۔ سیاسی عدم استحکام اور بحران نے عوام کو مایوس کیا، جس کے نتیجے میں وہ بائیکاٹ یا سیاسی عمل سے دور ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: آئینی بینچ نے سابق وفاقی محتسب توہین عدالت کیس میں نوٹس جاری کردیئے
حالیا انتخابات میں محض کم ٹرن آؤٹ
حالیہ ضمنی انتخابات میں ٹرن آؤٹ کافی کم رہا، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عوام واقعی جمہوریت سے بیزار ہو گئے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: نیتن یاہو کو بچائیں گے، ٹرمپ کرپشن الزامات میں گھرے اسرائیلی وزیراعظم کے دفاع میں آگئے۔
وجوہات کا تجزیہ
مہنگائی، اقتصادی مشکلات، سیاسی عدم اعتماد، اور بائیکاٹ کی مہمات عوام کی شرکت میں کمی کا باعث بن رہی ہیں۔ یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جمہوریت عوام کے شعور، روزمرہ زندگی کے حالات اور سیاسی اداروں پر اعتماد پر بھی منحصر ہے۔
آگے کا راستہ
یہ صورتحال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جمہوریت نہ صرف حق رائے دہی ہے بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔ عوام کو اپنی روزمرہ ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے حق رائے دہی کو بروئے کار لانا ہوگا تاکہ جمہوریت کی روح کو زندہ رکھا جا سکے۔
نوٹ: بلاگ میں موجود خیالات کا ادارے کی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔








