پٹواریوں کی اسامیوں کا درست اشتہار جاری کرنے کا حکم، جس ڈی سی کو سزا ملی، اسے میڈل پہنایا جاتا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ اب تو آپ لوگوں نے آئینی عدالت بنا لی پھر بھی کام نہیں ہو رہے۔ جس ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کو اس عدالت نے سزا دی ہوئی تھی، اسے صدر میڈل پہناتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے سالانہ 12لاکھ آمدن پر ٹیکس صفر کرنے کی سفارش کردی
پٹوار سرکلز میں سماعت
اسلام آباد کے پٹوار سرکلز میں پرائیویٹ اشخاص کے سرکاری کام کرنے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جب توہین عدالت کا نوٹس کروں گا تو جسٹس بابر ستار کی طرح نہیں کروں گا کہ وقت دے دوں، میں اسی وقت ہتھکڑی لگا کر جیل بھیج دوں گا میڈل ویڈل یہیں رہیں گے۔ بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ضلعی انتظامیہ کو دوبارہ درست اشتہار جاری کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: حماد اظہر کا این اے 129 کا ضمنی الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ
اشتیاق برہمی اور عدالت کے احکامات
آسامیوں کا درست اشتہار جاری نہ ہونے پر جسٹس محسن اختر کیانی نے اظہار برہمی کیا اور کہا کہ کیا ہر کام توہین عدالت کے بعد ہی کرنا ہے؟ جس ڈی سی کو اس عدالت نے سزا دی ہوئی تھی اسے صدر میڈل پہناتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سب کچھ تو آپ لوگوں کے لیے ہو رہا ہے، ہر چیز پر ججمنٹ ہے، قسم کھائی ہے نہ ماننے کہ بدنیتی نہ کریں، غلطی کی سزا نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پہلا ٹی 20: بنگلا دیش کو بھارت کی جانب سے زبردست شکست
حکومتی بے ایمانی اور مستقبل کے مسائل
جسٹس محسن اختر کیانی نے نشاندہی کی کہ بے ایمان لوگوں کا یہ سسٹم چل نہیں سکتا، یہ بھی بے ایمانی ہے اس لئے حکومت لوکل باڈیز کے الیکشن نہیں کراتی۔ انہوں نے کہا کہ کام روکنے سے جن کے پلاٹ ہیں وہ روئیں گے اور آپ کو اور مجھے بد دعا دیں گے۔
عدالت کے احکامات اور اگلی سماعت
عدالت نے اسلام آباد انتظامیہ کو پٹواریوں کی اسامیاں جاری کرنے کے درست اشتہار جاری کرنے کا حکم دیا۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پنجاب یا سندھ میں اسلام آباد والوں کو لگائیں نا۔ کیس کی سماعت اگلے ماہ تک ملتوی کردی گئی۔








