کچھ لمحے اسی کمرے میں گزارے جہاں عمران خان نے قیام کیا تھا، ساری رات آگ کے گرد بیٹھے یاروں دوستوں کو یاد کرتے اور قہقہے لگاتے رہے

مصنف کا تعارف

مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 361

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی حکومت نے نوجوانوں کو صرف نفرت اور شرپسندی کی طرف راغب کیا، رانا ثنا اللہ

کوٹلی ستیاں کی خوبصورتی

مشہود اور میں نے کچھ لمحے اسی کمرے میں گزارے جہاں عمران خان نے قیام کیا تھا۔ کوٹلی ستیاں، مری کی طرح کا پرفضا مقام ہے لیکن یہ زیادہ شفاف اور آلودگی سے پاک ہے۔ یہاں سیاحتی سہولیات کی کمی کی وجہ سے سیاح متوجہ نہیں ہوتے۔ اس دور میں کچھ ترقیاتی سکیمیں شروع کی گئیں اور مری کے متبادل ایک اور سیاحتی مقام بنانے کی سوچ نے جنم لیا، لیکن حکومتی تبدیلی کے ساتھ ہی یہاں کی اہمیت کم ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیں: بجٹ 2025-26 میں بیکری آئٹمز پر 20 فیصد ہیلتھ ٹیکس عائد کیئے جانے کا امکان

راجہ شہزاد کی میزبانی

راجہ شہزاد (گول مٹول یہ انسان سادہ، مخلص اور بہترین میزبان تھا) نے پر تکلف ظہرانے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ صاحب نے یہاں کی سڑکوں اور ٹی ایم اے کے لئے ایک خطیر رقم بھی مہیا کی تھی۔ کوٹلی ستیاں راجہ ناصر کے قومی اسمبلی کے حلقے میں شامل تھا۔

یہ بھی پڑھیں: آئندہ حج آپریشن کی تیاری ابھی سے شروع کی جائے: وزیراعظم

یادیں اور ماضی

2008 میں کشمیر (باغ) جاتے ہوئے میں اسی راستے سے گزرا تھا۔ تب شوکت سعید مرحوم وہاں ٹی ایم او تھے۔ ہم ساری رات آگ کے گرد بیٹھے، اکیڈمی کے دنوں اور یاروں دوستوں کی باتوں کو ماضی سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر یاد کرتے رہے اور قہقہے لگاتے رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: شارجہ اکنامک ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین حمد علی عبد اللہ المحمود سے خاور حسین کی ملاقات، تعاون کا یقین دلادیا

آئی جی آفس کی منتقلی

2004ء میں سو سال سے زیادہ پرانا آئی جی پنجاب کا دفتر نئی عمارت گورنمنٹ کالج کرکٹ گراؤنڈ سے متصل اور بورڈ آف ریونیو کے دفتر کے سامنے بنک روڈ اولڈ انار کلی پر منتقل ہوا۔ سعادت اللہ خاں آئی جی پنجاب تھے، ایک کمال شخصیت۔ انہوں نے نیا دفتر نہیں چھوڑنا چاہا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ جو بھی نیا آئی جی آئے، وہ اس تبدیلی کا حصہ بنے۔ ایک روز صاحب نے دفتر حوالگی کے حوالے سے ذرا ناراضگی کا اظہار کیا تو انہوں نے کہا؛ "سر! میں تو آپ کا ہی تراشا ہوا بت ہوں جیسے چاہیں موڑ لیں۔" اس فقرے نے صاحب کی ناراضگی کو مسکراہٹ میں بدل دیا۔

یہ بھی پڑھیں: طیاروں کے بعد بھارت کی کرنسی بھی زمین بوس ہو گئی

سعادت اللہ خاں کی محبت

سعادت اللہ خاں اپنی بیگم سے شدید محبت کرتے تھے، کیونکہ یہ ان کی پسند کی شادی تھی۔ جب بیگم کا انتقال ہوا تو وہ کئی دن تک اپنے کمرے سے باہر نہیں آئے۔

یہ بھی پڑھیں: فی تولہ سونے کی قیمت میں 10 ہزار 7 سو روپے کی بڑی کمی

نساء کی کہانیاں

صبا صادق اپنے دور کی سدا بہار خاتون تھیں۔ پہلے یہ (ن) لیگ کی چہیتی تھیں مگر پھر (ق)لیگ کو پیاری ہوئیں اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی مشیر یا چیئر پرسن بن گئیں۔ جب وہ مشیر بنیں تو ہمارے دفتر کے بغل میں انہیں صاحب کی سفارش پر دفتر الاٹ ہوا تھا۔ ان کی پہلی سٹاف افسر، خوبرو "فرح" نامی لڑکی تھی، تاہم تھوڑی ہی دیر بعد اُس نے خود کو اس ذمہ داری سے علیحدہ کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب نے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کے ڈیپازٹ کی مدت میں ایک بار پھر توسیع کر دی

دوستی اور مشکلات

فرح ایک بڑی ambitious خاتون تھی جو خوب بن ٹھن کر دفتر آتی۔ ایک دن وہ بڑی پریشانی میں میرے دفتر آئی اور پتہ چلا کہ سیکرٹری سوشل ویلفیئر راجہ عباس اس کے پیچھے پڑے تھے۔ انہوں نے صاحب کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کرنے کی کوشش کی، لیکن جب سیکرٹری سوشل ویلفیئر کی توجہ اس سے ہٹ گئی تو یہ بات طے ہوگئی۔ افسوس کہ یہ اور اس کی والدہ کووڈ19 کا شکار ہو کر دنیا سے چلی گئیں۔

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...