کچھ لمحے اسی کمرے میں گزارے جہاں عمران خان نے قیام کیا تھا، ساری رات آگ کے گرد بیٹھے یاروں دوستوں کو یاد کرتے اور قہقہے لگاتے رہے
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 361
یہ بھی پڑھیں: آرمڈ فورسز میں نہ ہونے والا شخص فورسز کے ڈسپلن کے نیچے کیسے آتا ہے؟ جسٹس جمال مندو خیل کا استفسار
کوٹلی ستیاں کی خوبصورتی
مشہود اور میں نے کچھ لمحے اسی کمرے میں گزارے جہاں عمران خان نے قیام کیا تھا۔ کوٹلی ستیاں، مری کی طرح کا پرفضا مقام ہے لیکن یہ زیادہ شفاف اور آلودگی سے پاک ہے۔ یہاں سیاحتی سہولیات کی کمی کی وجہ سے سیاح متوجہ نہیں ہوتے۔ اس دور میں کچھ ترقیاتی سکیمیں شروع کی گئیں اور مری کے متبادل ایک اور سیاحتی مقام بنانے کی سوچ نے جنم لیا، لیکن حکومتی تبدیلی کے ساتھ ہی یہاں کی اہمیت کم ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات، خاتون اول محترمہ آمینہ اردوان بھی موجود
راجہ شہزاد کی میزبانی
راجہ شہزاد (گول مٹول یہ انسان سادہ، مخلص اور بہترین میزبان تھا) نے پر تکلف ظہرانے کا اہتمام کر رکھا تھا۔ صاحب نے یہاں کی سڑکوں اور ٹی ایم اے کے لئے ایک خطیر رقم بھی مہیا کی تھی۔ کوٹلی ستیاں راجہ ناصر کے قومی اسمبلی کے حلقے میں شامل تھا۔
یہ بھی پڑھیں: خضدار: قبائلی رہنما میر مہراللہ محمد حسنی تین ساتھیوں سمیت قتل
یادیں اور ماضی
2008 میں کشمیر (باغ) جاتے ہوئے میں اسی راستے سے گزرا تھا۔ تب شوکت سعید مرحوم وہاں ٹی ایم او تھے۔ ہم ساری رات آگ کے گرد بیٹھے، اکیڈمی کے دنوں اور یاروں دوستوں کی باتوں کو ماضی سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر یاد کرتے رہے اور قہقہے لگاتے رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کے پی اسمبلی میں مخصوص نشستوں کی تقسیم کا الیکشن کمیشن کا اعلامیہ کالعدم قرار
آئی جی آفس کی منتقلی
2004ء میں سو سال سے زیادہ پرانا آئی جی پنجاب کا دفتر نئی عمارت گورنمنٹ کالج کرکٹ گراؤنڈ سے متصل اور بورڈ آف ریونیو کے دفتر کے سامنے بنک روڈ اولڈ انار کلی پر منتقل ہوا۔ سعادت اللہ خاں آئی جی پنجاب تھے، ایک کمال شخصیت۔ انہوں نے نیا دفتر نہیں چھوڑنا چاہا کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ جو بھی نیا آئی جی آئے، وہ اس تبدیلی کا حصہ بنے۔ ایک روز صاحب نے دفتر حوالگی کے حوالے سے ذرا ناراضگی کا اظہار کیا تو انہوں نے کہا؛ "سر! میں تو آپ کا ہی تراشا ہوا بت ہوں جیسے چاہیں موڑ لیں۔" اس فقرے نے صاحب کی ناراضگی کو مسکراہٹ میں بدل دیا۔
یہ بھی پڑھیں: کسی بھی خبر یا سرکاری اعلان کو جلد از جلد سارے ہندوستان میں پھیلانے کا سب سے آسان اور پر اثر ذریعہ ریلوے کے پلیٹ فارم ہی ہوتے تھے۔
سعادت اللہ خاں کی محبت
سعادت اللہ خاں اپنی بیگم سے شدید محبت کرتے تھے، کیونکہ یہ ان کی پسند کی شادی تھی۔ جب بیگم کا انتقال ہوا تو وہ کئی دن تک اپنے کمرے سے باہر نہیں آئے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشز سیریز، باکسنگ ڈے ٹیسٹ کے لیے آسٹریلیا کا 12 رکنی اسکواڈ سامنے آ گیا
نساء کی کہانیاں
صبا صادق اپنے دور کی سدا بہار خاتون تھیں۔ پہلے یہ (ن) لیگ کی چہیتی تھیں مگر پھر (ق)لیگ کو پیاری ہوئیں اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی مشیر یا چیئر پرسن بن گئیں۔ جب وہ مشیر بنیں تو ہمارے دفتر کے بغل میں انہیں صاحب کی سفارش پر دفتر الاٹ ہوا تھا۔ ان کی پہلی سٹاف افسر، خوبرو "فرح" نامی لڑکی تھی، تاہم تھوڑی ہی دیر بعد اُس نے خود کو اس ذمہ داری سے علیحدہ کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: انتقال کے بعد روز وائس نوٹس سن کر روتی تھی، ندایاسر والدہ کو یاد کر کے آبدیدہ
دوستی اور مشکلات
فرح ایک بڑی ambitious خاتون تھی جو خوب بن ٹھن کر دفتر آتی۔ ایک دن وہ بڑی پریشانی میں میرے دفتر آئی اور پتہ چلا کہ سیکرٹری سوشل ویلفیئر راجہ عباس اس کے پیچھے پڑے تھے۔ انہوں نے صاحب کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کرنے کی کوشش کی، لیکن جب سیکرٹری سوشل ویلفیئر کی توجہ اس سے ہٹ گئی تو یہ بات طے ہوگئی۔ افسوس کہ یہ اور اس کی والدہ کووڈ19 کا شکار ہو کر دنیا سے چلی گئیں۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔








