لیگل ایڈ ایکٹ 2019 پر عملدرآمد نہ ہونے کیخلاف درخواست پر حکومت سے جواب طلب
عدالت نے لیگل ایڈ ایکٹ 2019 پر جواب طلب کیا
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) عدالت نے لیگل ایڈ ایکٹ 2019 پر عملدرآمد نہ ہونے کیخلاف درخواست پر حکومت سے جواب طلب کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: لندن میں وزیر دفاع خواجہ آصف کو گالیاں اور دھمکیاں دینے کی ویڈیو منظر عام پر آگئی
سماعت کا پس منظر
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پشاور ہائیکورٹ میں لیگل ایڈ ایکٹ 2019 پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد نعیم انور نے کیس کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی سے متعلق بھارتی سیکریٹری خارجہ کا بیان سامنے آگیا
درخواست گزار کا مؤقف
درخواست گزار کے وکیل نعمان محب نے موقف اپنایا کہ خیبرپختونخوا میں سکت نہ رکھنے والے افراد کے لیے لیگل ایڈ ایجنسی قائم کی جانی تھی تاہم چھ سال گزرنے کے باوجود تاحال ایکٹ پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: یورو کرنسی اپنانے کا اعلان، بلغاریہ کی پارلیمنٹ میدانِ جنگ بن گئی
قانون کی اہمیت
وکیل کے مطابق اس قانون کے تحت ایسے قیدی اور گھریلو تنازعات کا سامنا کرنے والی خواتین کو مفت قانونی معاونت فراہم کی جانی تھی جن کے پاس وکیل کرنے کی استطاعت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی حملوں کے بعد اسرائیل کی فضا تبدیل، لوگوں میں نیا احساس جنم لینے لگا، دفاعی نظام پر اعتماد متزلزل ہوگیا، بی بی سی کا تہلکہ خیز انکشاف
عدالت کی وضاحت
سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ کن کیسز میں حکومت مفت وکیل فراہم کرنے کی پابند ہے؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ قیدیوں اور گھریلو تنازعات سے متعلق خواتین کے کیسز میں حکومت وکلاء کی فیس خود ادا کرنے کی پابند ہے۔
آخری لمحات
بعدازاں عدالت نے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری قانون خیبرپختونخوا سے تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔








