لیگل ایڈ ایکٹ 2019 پر عملدرآمد نہ ہونے کیخلاف درخواست پر حکومت سے جواب طلب
عدالت نے لیگل ایڈ ایکٹ 2019 پر جواب طلب کیا
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) عدالت نے لیگل ایڈ ایکٹ 2019 پر عملدرآمد نہ ہونے کیخلاف درخواست پر حکومت سے جواب طلب کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ندا یاسر ایک بار پھر ٹرولرز کے نشانے پر
سماعت کا پس منظر
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پشاور ہائیکورٹ میں لیگل ایڈ ایکٹ 2019 پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد نعیم انور نے کیس کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: وہی کریں جو کرنا چاہتے ہیں، ایک ہفتے کیلیے اپنے گھر سے دور رہیں، اس روئیے کے باعث آپ ندامت سے دامن چھڑا لینے میں کامیاب ہو جائیں گے.
درخواست گزار کا مؤقف
درخواست گزار کے وکیل نعمان محب نے موقف اپنایا کہ خیبرپختونخوا میں سکت نہ رکھنے والے افراد کے لیے لیگل ایڈ ایجنسی قائم کی جانی تھی تاہم چھ سال گزرنے کے باوجود تاحال ایکٹ پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ انتظامیہ کی ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں پر گہری نظر
قانون کی اہمیت
وکیل کے مطابق اس قانون کے تحت ایسے قیدی اور گھریلو تنازعات کا سامنا کرنے والی خواتین کو مفت قانونی معاونت فراہم کی جانی تھی جن کے پاس وکیل کرنے کی استطاعت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: 29 سالہ خاتون کو 4 بچوں سمیت راستے سے اغوا کرلیا گیا، مقدمہ درج
عدالت کی وضاحت
سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ کن کیسز میں حکومت مفت وکیل فراہم کرنے کی پابند ہے؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ قیدیوں اور گھریلو تنازعات سے متعلق خواتین کے کیسز میں حکومت وکلاء کی فیس خود ادا کرنے کی پابند ہے۔
آخری لمحات
بعدازاں عدالت نے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری قانون خیبرپختونخوا سے تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔








