لیگل ایڈ ایکٹ 2019 پر عملدرآمد نہ ہونے کیخلاف درخواست پر حکومت سے جواب طلب
عدالت نے لیگل ایڈ ایکٹ 2019 پر جواب طلب کیا
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) عدالت نے لیگل ایڈ ایکٹ 2019 پر عملدرآمد نہ ہونے کیخلاف درخواست پر حکومت سے جواب طلب کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: خاتون محتسب کا جی سی یونیورسٹی اولڈ کیمپس کا اچانک دورہ، سیکیورٹی سٹاف نے گیٹ پر روک لیا، توہین عدالت کا نوٹس جاری
سماعت کا پس منظر
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پشاور ہائیکورٹ میں لیگل ایڈ ایکٹ 2019 پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد نعیم انور نے کیس کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے ایک اور سنگ میل عبور کرلیا، ڈرائیور کے بغیر چلنے والے مائننگ ٹرک تیار، کانوں میں کام شروع کردیا
درخواست گزار کا مؤقف
درخواست گزار کے وکیل نعمان محب نے موقف اپنایا کہ خیبرپختونخوا میں سکت نہ رکھنے والے افراد کے لیے لیگل ایڈ ایجنسی قائم کی جانی تھی تاہم چھ سال گزرنے کے باوجود تاحال ایکٹ پر کوئی عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کالاشاہ کاکو میں والدین سے جھگڑے کے بعد جواں سال لڑکی کی خودکشی
قانون کی اہمیت
وکیل کے مطابق اس قانون کے تحت ایسے قیدی اور گھریلو تنازعات کا سامنا کرنے والی خواتین کو مفت قانونی معاونت فراہم کی جانی تھی جن کے پاس وکیل کرنے کی استطاعت نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مایوس کن بیٹنگ پرفارمنس کے باوجود بابر اعظم نے ایک اور اعزاز اپنے نام کر لیا
عدالت کی وضاحت
سماعت کے دوران جسٹس اعجاز انور نے استفسار کیا کہ کن کیسز میں حکومت مفت وکیل فراہم کرنے کی پابند ہے؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ قیدیوں اور گھریلو تنازعات سے متعلق خواتین کے کیسز میں حکومت وکلاء کی فیس خود ادا کرنے کی پابند ہے۔
آخری لمحات
بعدازاں عدالت نے چیف سیکرٹری اور سیکرٹری قانون خیبرپختونخوا سے تفصیلی جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔








