سرکاری و تعلیمی اداروں کے احاطے و اطراف میں سیاسی جلسوں اور اجتماعات پر پابندی
پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پشاور ہائیکورٹ نے سرکاری اور تعلیمی اداروں کے احاطوں میں غیر متعلقہ اجتماعات کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ماہنتی پیڈ آؤٹ ڈور کرکٹ ٹورنامنٹ سیزن 3 کا اختتام، گولڈ اسپانسر محمد علی ماہنتی نے فاتح ٹیم کو ٹرافی سے نوازا، شیراز وڑائچ بہترین کھلاڑی قرار پائے
تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ نے5 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں: امن و خوشحالی کیلئے ہر گھر کو مرکز علم بنانا ہوگا: ڈاکٹر حسن قادری چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل
پابندیاں عائد
عدالت عالیہ نے سرکاری اداروں کے اطراف میں سیاسی جلسوں، جلوسوں اور دیگر اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ فیصلے کے مطابق تعلیمی اداروں، سرکاری مقامات اور انتظامیہ اداروں کے احاطے میں سیاسی اجتماعات کی اجازت نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی عوام کیا سوچ رہے ہیں اور کیا کچھ ہوسکتا ہے؟ تہران یونیورسٹی کے پروفیسر کا بیان آگیا
سرکاری اداروں کی ذمہ داری
عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سرکاری اداروں کے احاطے کے استعمال کی ذمہ داری متعلقہ افسران پر عائد ہوتی ہے، لہٰذا ان اداروں کا سیاسی استعمال روکنے کو یقینی بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: رحیم یارخان: موٹر وے پر مسافر بس ٹرک سے ٹکرا گئی، 5 مسافر جاں بحق، 26 زخمی
تقدس کی حفاظت
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سرکاری اداروں کا قیام کسی خاص مقصد کے لئے کیا جاتا ہے جب کہ غیر متعلقہ اجتماعات اداروں کے تقدس کو پامال کرتے ہیں، اس لئے ان کی روک تھام ضروری ہے۔ عدالت نے ہدایت جاری کی کہ تعلیمی اور دیگر سرکاری اداروں کے ذمہ داران غیر متعلقہ اجتماعات کی ہر صورت روک تھام کو یقینی بنائیں۔
درخواست گزار کا مؤقف
قبل ازیں درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری اور تعلیمی اداروں کے احاطوں میں اجتماعات کا انعقاد آئین کے آرٹیکل 4 کی خلاف ورزی ہے اور خیبرپختونخوا میں غیر قانونی اجتماعات سے سرکاری امور اور تعلیمی سرگرمیاں مسلسل متاثر ہو رہی ہیں۔








