ابھی تو ججز بھی نہیں رہے، صرف اساتذہ ہی ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی کے دوران سماعت اہم ریمارکس
اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائی کورٹ میں جامعات میں بی پی ایس اساتذہ کی پرموشن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے سیکرٹری خزانہ اور ایچ ای سی کو آئندہ سماعت پر اساتذہ کی ترقیوں سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: ہم یوتھیے ہوں یا پٹواری پاکستان پر بات آئی تو ہم سب ایک ہیں پاکستانیوں کا مودی کو واضح پیغام
چیئرمین ایچ ای سی کی تعیناتی
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق عدالت نے حکم دیا کہ چیئرمین ایچ ای سی کی تعیناتی کے 15 روز میں پروموشن پالیسی کا اجلاس بلاکر رپورٹ پیش کریں۔
یہ بھی پڑھیں: کبھی بھرپور پروٹوکول میں گھومنے والا سابق امریکی صدر جو بائیڈن کا بیٹا اب کہاں اور کس حال میں ہے؟ نئی تصویر سامنے آگئی۔
جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس
اساتذہ سے متعلق جسٹس محسن اختر کیانی نے دوران سماعت اہم ریمارکس دیے اور کہا کہ ہم لوگ 80 کی دہائی کی نسل سے ہیں جنہوں نے ڈکٹیٹر شپ کے دوران آنکھ کھولی۔ یہاں پر ایسے اساتذہ بھی ہیں جن کو 17, 18 سال مستقل نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ سے کارکنان کی ہلاکت کی ویڈیوز ڈیلیٹ کردی گئیں
اساتذہ اور طلباء کا مستقبل
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جب اساتذہ خود مایوس ہوں گے تو طلباء پر بھی اس کا اثر پڑے گا۔ اساتذہ اور طلباء نے بھی ملک کا دفاع کرنا ہے، ابھی یہ بات سمجھ نہیں آئے گی، جب مشکل وقت آئے گا تب معلوم ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا
یونیورسٹی کے طلبا کی اہمیت
جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ یونیورسٹی کے طلبا نے ہی آگے جا کر کمانڈ کرنی ہے۔ ملک کے دفاع کا ایک بہترین نمونہ حال ہی میں دیکھا گیا ہے۔ اساتذہ کو اچھی جگہ پر ہونا چاہیے، ابھی تو ججز بھی نہیں رہے، صرف اساتذہ ہی ہیں۔
عدالت کی ہدایات اور سماعت کی تاریخ
عدالت نے سیکرٹری خزانہ و ایچ ای سی کو ہدایات کے ساتھ سماعت جنوری تک ملتوی کردی۔








