دنیا کے 61 ممالک میں 21 ہزار 647 پاکستانی قید ہونے کا انکشاف
پاکستانیوں کی قید کی صورتحال
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ مختلف 61 ممالک میں اس وقت 21 ہزار 647 پاکستانی قید ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ممتاز شاعر شعیب بن عزیز کی 75 ویں سالگرہ کی تقریب، اہم شخصیات کی شرکت
وزارت داخلہ کی رپورٹ
ہم نیوز کے مطابق ایڈیشنل سیکریٹری وزارت داخلہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ایک پڑوسی ملک نے پاکستان کے نظام میں مداخلت کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر پاسپورٹس بنوائے۔ اس معاملے میں کرپشن کے امکانات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، اور غلطی ہماری اپنی سسٹمز میں بھی موجود رہی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: 9 مئی توڑ پھوڑ کیس؛ سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما امتیاز شیخ کی عبوری ضمانت منظور کر لی
انسانی اسمگلنگ کے خطرات
چیئر پرسن کمیٹی ثمینہ ممتاز نے انسانی اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اس معاملے پر مناسب آگاہی نہ ملنے کے باعث بڑی تعداد میں لوگ غیر قانونی راستوں سے بیرون ملک جانے کے خطرناک نتائج سے ناواقف ہیں۔ ایئرپورٹس پر آگاہی بینرز نہ ہونا بھی ایک سنگین غفلت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: غیر ملکی اسپانسرڈ دہشتگردی بلوچستان کی ترقی کے لیے سنگین ترین خطرہ ہے، آرمی چیف
مجرم گروہوں کا کام
انہوں نے نشاندہی کی کہ انسانی اسمگلنگ میں ملوث گروہ ملک کے اندر سے کام کر رہے ہیں اور نوجوانوں کو مختلف جھانسوں میں پھنسا کر بیرون ملک بھیجتے ہیں۔ جعلی ڈگریاں، جعلی کورسز اور نشہ اسمگلنگ جیسے جرائم میں بھی کئی بے خبر افراد کو استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 18 برس کی عمر میں قید ہوا، 38 سال بعد رہائی ملی، اردنی قیدی شام کی جیل سے اپنے گھر پہنچ گیا
حکومتی بریفنگ کی درخواست
ثمینہ ممتاز نے مطالبہ کیا کہ ایران میں سخت سزاؤں کے بعد وہاں قید پاکستانیوں کی تازہ تعداد اور حکومتی آگاہی مہمات کے بارے میں کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان کے ریسکیورز کو پنجاب میں جدید تربیت، وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی تقریب میں شرکت
سعودی عرب سے واپسی
سیکریٹری وزارت داخلہ نے اجلاس کو بتایا کہ چند ماہ قبل سعودی عرب سے بڑی تعداد میں پاکستانیوں کو واپس بھیجا گیا، جن میں کئی افغان شہری بھی پاکستانی شناخت کے ساتھ مقیم تھے۔
یہ بھی پڑھیں: راجن پور: کچے میں پولیس آپریشن، ہنی ٹریپ کے ذریعے مغوی بنایا گیا نوجوان بازیاب
ڈیجیٹل شناختی ریکارڈ
انہوں نے کہا کہ اب 18 سے 20 کروڑ پاکستانیوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ موجود ہے اور شناخت کی تصدیق فوری طور پر ممکن ہے۔ بیرون ملک گرفتار پاکستانیوں کی اکثریت معمولی نوعیت کے جرائم جیسے اوور اسٹے، شناختی فراڈ یا بینک فراڈ میں ملوث ہوتی ہے، جبکہ سنگین جرائم جیسے قتل، دہشت گردی یا منظم جرائم میں پاکستانیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی حملے میں اب تک کتنے پاکستانی شہید ہوئے؟ ڈی جی آئی ایس پی آر نے قوم کو تازہ صورتحال سے آگاہ کردیا
وزیر اعظم کی ہدایت
سیکریٹری کے مطابق انسانی اسمگلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات پر وزیراعظم کی ہدایت پر مختلف ممالک کے دورے کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: عورتوں کو سڑکوں پر رسوا کرنا طاقت نہیں بلکہ بے شرمی اور بے غیرتی ہے، سردار عبدالقیوم نیازی
منظم نیٹ ورک کی نشاندہی
انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے گجرات، وزیرآباد، شیخوپورہ اور لاہور سمیت کئی اضلاع سے انسانی اسمگلنگ کے منظم نیٹ ورک سامنے آئے ہیں، جن کے کارندے دبئی اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک میں بھی سرگرم ہیں۔
نوجوانوں کا استحصال
ان کا کہنا تھا کہ انسانی اسمگلرز معصوم نوجوانوں کو یورپ پہنچانے کے بہانے 43 سے 50 لاکھ روپے تک وصول کرتے ہیں اور پھر انہیں خطرناک اور غیر قانونی راستوں پر ڈال دیتے ہیں۔ متعدد پاکستانیوں کو 6 سے 8 ماہ تک جبری مشقت اور غیر انسانی حالات میں رکھا جاتا ہے، جو ایک تشویشناک اور سنگین صورتحال ہے۔








