پی ٹی آئی کے 13 کارکنوں کی رہائی کا حکم
لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کارکنان کی نظر بندی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے کارکنوں کی رہائی کا حکم جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کو اپنے دفاع کا پورا حق ہے،صدر رجب طیب اردوان کا ترک پارلیمنٹ میں خطاب
غیر قانونی نظر بندی کے خلاف درخواست
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 13 کارکنان کی غیر قانونی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست منظور کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ننکانہ کے جاری کردہ نظر بندی کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا کراچی میں تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ کرنے کا اعلان
جج کا فیصلہ اور قانونی دلائل
جسٹس فاروق حیدر نے سہیل منظور کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل ملک احد اعوان نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈی سی ننکانہ نے 21 نومبر کو قانون اور اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے 13 سیاسی کارکنان کی غیر قانونی نظر بندی کے احکامات جاری کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں مزید 3 کشمیری نوجوان شہید
بنیادی حقوق کی خلاف ورزی
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ سیاسی کارکنان کی اس نوعیت کی نظر بندی نہ صرف خلافِ قانون ہے بلکہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔
عدالت کی رائے
سرکاری وکیل نے بتایا کہ حکومت مخالف کارروائی کے خدشے کے پیش نظر نظر بندی کا حکم جاری کیا گیا تھا، جس پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نظر بندی کے تمام احکامات منسوخ کرکے کارکنوں کی رہائی کا حکم دیا۔








