پی ٹی آئی کے 13 کارکنوں کی رہائی کا حکم
لاہور ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کارکنان کی نظر بندی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے کارکنوں کی رہائی کا حکم جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: جیالوں نے جان کا نذرانہ دے کر جمہوری جدوجہد کو امر کردیا : وزیر اعلیٰ سندھ
غیر قانونی نظر بندی کے خلاف درخواست
نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 13 کارکنان کی غیر قانونی نظر بندی کے خلاف دائر درخواست منظور کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ننکانہ کے جاری کردہ نظر بندی کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میجر عدنان نے خوارج سے لڑتے ہوئے جان کی قربانی دی، والد نے کہابیٹے کی شہادت پر فخر ہے: وزیر اعظم
جج کا فیصلہ اور قانونی دلائل
جسٹس فاروق حیدر نے سہیل منظور کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل ملک احد اعوان نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈی سی ننکانہ نے 21 نومبر کو قانون اور اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے 13 سیاسی کارکنان کی غیر قانونی نظر بندی کے احکامات جاری کیے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بلدیاتی ضمنی انتخابات، سندھ حکومت نے 24 ستمبر کو 14 اضلاع میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا
بنیادی حقوق کی خلاف ورزی
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ سیاسی کارکنان کی اس نوعیت کی نظر بندی نہ صرف خلافِ قانون ہے بلکہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔
عدالت کی رائے
سرکاری وکیل نے بتایا کہ حکومت مخالف کارروائی کے خدشے کے پیش نظر نظر بندی کا حکم جاری کیا گیا تھا، جس پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نظر بندی کے تمام احکامات منسوخ کرکے کارکنوں کی رہائی کا حکم دیا۔








