طلاق 90 دن کی مدت پوری ہونے تک مؤثر نہیں ہوسکتی، سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) طلاق نوے دن کی مدت پوری ہونے تک مؤثر نہیں ہوسکتی۔ خاوند نے بیوی کو طلاق کا حق بلاشرط دیا ہوتو بیوی کو طلاق واپس لینے کا حق بھی حاصل ہے۔ سپریم کورٹ نے محمد حسن سلطان کی اپیل مسترد کر دی۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ جسٹس شفیع صدیقی نے 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔ شادی کے بعد میاں بیوی نیویارک میں رہائش پذیر تھے، بیوی 2023 میں بیٹی کے ساتھ نیویارک سے کراچی واپس آگئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: حمیرا اصغر کے کیمرے سے سفید پاؤڈر ملا ہے جس تجزیے کے لیے لیبارٹری بھجوا دیا ہے، پولیس
طلاق کے نوٹس کی کارروائی
سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ بیوی نے 3 جولائی 2023 کو کراچی سے شوہر کو طلاق کا نوٹس جاری کیا تھا۔ بیوی نے 10 اگست 2023 کو طلاق کا نوٹس واپس لینے کی درخواست جمع کروائی تھی۔ یونین کونسل نے 90 روز پورے نہ ہونے پر طلاق کی قانونی کارروائی ختم کر دی تھی۔ بیوی کے نوٹس واپس لینے پر شوہر نے طلاق کا نوٹس دینے کے لیے یونین کونسل سے رجوع کیا، جسے یونین کونسل نے دائرہ اختیار نہ ہونے پر خارج کیا تھا۔
یونین کونسل اور سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے
اعلی عدلیہ کے فیصلے کے مطابق یونین کونسل نے کہا کہ خاتون اب نیویارک میں ہے لہٰذا کراچی میں کارروائی کا اختیار نہیں بنتا۔ یونین کونسل نے قراردیا کہ طلاق کی کارروائی پاکستان کے مشن نیویارک کے ذریعے ہونی چاہیے تھی۔ پاکستان کا قانون بیوی کے 90 دن کے اندر طلاق واپس لینے کو درست تسلیم کرتا ہے۔ بیوی کی نیویارک میں فائل کردہ درخواست کا پاکستان کی کارروائی سے کوئی تعلق نہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ شوہر نے یونین کونسل کے فیصلے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، اور یونین کونسل اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے قانون کے مطابق تھے۔ سندھ ہائی کورٹ نے یونین کونسل کے دونوں فیصلوں کو درست قرار دے کر درخواست مسترد کر دی تھی۔








