ڈاکٹر محمود رحمانی کی کانپور میں اندھے پن کے خلاف جہادی تحریک اور ایوارڈ

مصنف کی تفصیلات

مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 232

یہ بھی پڑھیں: فوجی فر ٹیلائزر کمپنی کا پی آئی اے کے شیئرز خریدنے میں دلچسپی کا اظہار

ڈاکٹر محمود رحمانی کی کوششیں

ڈاکٹر محمود رحمانی عرصۂ دراز سے کانپور میں اندھے پن کے خلاف جہادی بنیادوں پر تحریک چلا رہے ہیں۔ وہ نابینا لوگوں کے سماجی اور معاشی مسائل کے حل کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے ایل پی جی گیس کی قیمت میں بڑی کمی کا اعلان کر دیا

ایوارڈ کی تقریب

ڈاکٹر محمود رحمانی کے بعد انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کانپور کے صدر کو ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ہر ایوارڈ دینے سے پہلے ایوارڈ یافتگان کو ایک ایک مایہ لگی سفید چادر بھی پہنائی جاتی تھی، جو کہ یہاں کی قدیم عزت افزاء روایات کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مودی سرکار پانی کی سیاست سے عوام کو بیوقوف بنا رہی ہے، بھارت کے اندر سے آوازیں اٹھنا شروع، ہندو پنڈت نے کیا کہا؟ ویڈیو دیکھیں

ایوارڈ کی پیشکش

ایوارڈ کے لیے راقم کا نام پکارا گیا تو سری لنکا کے جسٹس ویگنیشور تلکا رتنے نے میرے شانوں پر چادر سجائی اور پھر اپنے ہاتھ سے مجھے ایوارڈ پیش کیا۔ نشہ چادر پوشی میں ڈوبے رانا صاحب سامعین کی طرف ہاتھ لہراتے اپنی نشست کی طرف چلے تو سامعین نے بھرپور تالیوں کے ساتھ میرے اظہار محبت کا جواب دیا۔

یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں گرمی کا قہر، درجہ حرارت کہاں جا پہنچا؟ جان کر ہی پسینے چھوٹ جائیں

شاعر وکیل ظفر علی راجا کی نظم

بعدازاں سٹیج سے سیکرٹری باجپائی نے اعلان کیا کہ "اب میں پاکستان سے آئے ہوئے شاعر وکیل ظفر علی راجا کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ تشریف لائیں اور اپنی خصوصی نظم سنائیں۔" ظفر علی راجا نے بالترتیب اردو اور ہندی زبانوں میں باآواز بلند نظم سنانا شروع کی:

پیش کرتے ہیں پیار ہم اپنا
دان ہیں سب محبتیں اپنی
کانپور بار کو مبارک ہو
ایک سو چودویں دن کی

سامعین نے تالیاں بجا کر راجا صاحب کو داد دی۔ تالیوں کا سلسلہ ختم ہوا تو راجا صاحب نے وہ بند پڑھا جس میں ہندی کے ثقیل الفاظ شامل تھے:

ادھی وکتا ہیں، ایک جان ہیں سب
لوگ تانترک کی آن بان ہیں سب
جان کا ران سوی دھان ہیں سب
عزتیں سربلند ہیں ان کی
کانپور بار کو مبارک ہو
ایک سو چودویں جنم دن کی

یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کی بہن کہہ رہی ہے کہ سب ڈرامہ ہے، علیمہ بی بی نے خود کو ہی انڈا پڑوایا، وزیر داخلہ محسن نقوی

اختتامی الفاظ

ابھی آخری الفاظ پوری طرح ادا نہیں ہو پائے تھے کہ ہال واہ واہ، تالیوں اور پھر "پڑھیئے" کے شور سے گونج اٹھا۔ راجا صاحب دل ہی دل میں پھولے نہیں سما رہے تھے کہ اردو نظم میں ہندی پیوندکاری پوری طرح اپنا کرشمہ دکھا رہی ہے۔

اب راجا صاحب نے اپنی نظم کا آخری حصہ کان پور کے وکلاء کی نذر کیا:

لوک سیواسے صرف کام اْنہیں
شکتیاں دے رہے ہیں رام اْنہیں
شہر لاہور کا سلام انہیں
کر مدد تو بھی اے خدا ان کی
کانپور بار کو مبارک ہو

ابھی ہم یہیں تک پہنچے تھے کہ ہال میں بیٹھے نوجوان وکلاء نے کورس کی صورت میں آخری مصرہ پڑھا…
(جاری ہے)

نوٹ

یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...