چند سو لوگوں کی گرفتاری کافی نہیں، ہم تو یہ چاہتے ہیں افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو، امن ہی واحد راستہ ہے: وزیر خارجہ
افغانستان کے وزیر خارجہ کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغانستان کے دورے میں افغان وزیر خارجہ امیر متقی نے کہا تھا کہ انہوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے چند لوگوں کو گرفتار کیا ہے لیکن انہوں نے واضح کردیا کہ یہ کافی نہیں ہے۔ "ہم چاہتے ہیں کہ افغان سرزمین ہمارے خلاف استعمال نہ ہو، امن ہی واحد راستہ ہے۔" پاکستان نے افغانستان سے کہا کہ ٹی ٹی پی کو پاک افغان بارڈر سے دور لے جائیں، یا پھر انہیں ہمارے حوالے کردیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے خلاف ٹیسٹ میچ میں جو روٹ نے اہم اعزاز حاصل کرلیا
اسحاق ڈار کی پریس کانفرنس
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ انہوں نے ماسکو، بحرین اور برسلز کے دورے کیے۔ ماسکو میں انہوں نے ایس سی او سربراہان حکومت کے اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ اجلاس میں پاکستان کی معاشی ترجیحات پر بات کی گئی، اور پاکستان کا علاقائی روابط اور توانائی کے شعبے میں تعاون سے متعلق مؤقف پیش کیا۔ صدر پیوٹن نے اجلاس میں شریک وفود کے سربراہان سے ملاقات کی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈمپرز ایسوسی ایشن کا عیدالاضحیٰ پر کراچی سے آلائشیں نہ اٹھانے کا اعلان
یورپی یونین کے ساتھ بات چیت
جیو نیوز کے مطابق، اسحاق ڈار نے کہا کہ یورپی یونین کے صدر کے ساتھ ملاقات خوشگوار رہی۔ برسلز میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان اسٹریٹیجک ڈائیلاگ میں مقبوضہ کشمیر، سندھ طاس معاہدہ، افغانستان، دہشت گردی اور جی ایس پی پلس سمیت مختلف امور پر بات کی گئی۔ انہیں بریفنگ دی گئی کہ افغانستان نے انسدادِ دہشت گردی کے حوالے سے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا، اور یہ کہ چند لوگوں کی گرفتاری کافی نہیں ہے۔
دہشت گردی کے خلاف اقدامات
وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغانستان سے کہا کہ ٹی ٹی پی کو پاک افغان بارڈر سے دور لے جائیں، یا پھر انہیں ہمارے حوالے کردیں۔ "ہم نے اچھے نیت پر مبنی اقدامات کیے، جو کہ افغانستان نے تسلیم کیے، لیکن افغانستان کی جانب سے دہشت گردی کے حوالے سے وعدے وفا نہ ہوئے۔ داعش کی صورتحال مزید خراب ہوگئی۔"








