یوکرینی صدرزیلنسکی کے چیف آف سٹاف مستعفی، کن الزامات کا سامنا تھا ؟ جانیے
یوکرین کے صدر کے چیف آف سٹاف کا استعفیٰ
کیف (مانیٹرنگ ڈیسک) یوکرین کے صدر ولادیمیر صدرزیلنسکی کے چیف آف سٹاف مستعفی ہو گئے ہیں۔ یہ اہم واقعہ کن الزامات کے باعث پیش آیا؟ یہاں پر اہم تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سیلوٹ پر عرب امارات کے صدر نے گرم جوشی سے جوابی سیلوٹ کیا
بدعنوانی کے الزامات
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق، کرپشن الزامات کی بنیاد پر یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے چیف آف سٹاف نے اپنا استعفیٰ پیش کیا ہے۔ صدر زیلنسکی نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ان کے چیف آف سٹاف، اینڈری یرمک، بدعنوانی سکینڈل کے باعث مستعفی ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنوں میں سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مشترکہ آپریشن، بھارتی پراکسی فتنۃ الخوارج کے 8 دہشت گرد ہلاک
انسداد بدعنوانی ایجنسی کا چھاپہ
خبرایجنسی کے مطابق، یوکرین کی انسداد بدعنوانی ایجنسی نے گزشتہ دنوں اینڈری یرمک کے گھر پر چھاپہ مارا۔ یرمک نے کہا کہ وہ تفتیش کاروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: آئین و قانون سے ہی ملکی مسائل حل اور ناانصافیوں کو ختم کرنا ہوگا، شاہد خاقان عباسی
مذاکرات کی ذمہ داری
زیلنسکی نے حال ہی میں یرمک کو روس سے جنگ بندی کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مذاکرات کی ذمہ داری بھی دی تھی۔
صدر زیلنسکی کا تحریری پیغام
اپنے خطاب میں، صدر زیلنسکی نے یرمک کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’میں اینڈری کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مذاکرات میں ذمہ داری بخوبی سرانجام دی۔‘‘








