ایف سی ہیڈ کوارٹرز خودکش دھماکا: تینوں حملہ آوروں کے افغان شہری ہونے کی تصدیق
پشاور میں خودکش دھماکے کی تفتیش
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) - پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈ کوارٹرز پر ہونے والے خودکش دھماکوں سے متعلق تفتیش کا آغاز ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بوریوالا یونیورسٹی میں طالبات کو ہراساں کرنے والا اسسٹنٹ پروفیسر گرفتار
حملہ آوروں کی تصدیق
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، تفتیشی حکام نے بتایا کہ نادرا نے ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کرنے والے تینوں حملہ آوروں کی افغان شہریت کی تصدیق کر دی ہے۔ تاہم نادرا کو حملہ آوروں کی مزید تفصیلات ابھی تک موصول نہیں ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: 11 نومبر کو عرب اسلامی سربراہی اجلاس ،شہباز شریف شرکت کیلئے 10 نومبر کو سعودی عرب جائیں گے.
تفتیش کی پیشرفت
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بارے میں اب تک 100 سے زیادہ مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔ حملہ آوروں کی رحمان بابا قبرستان سے ایف سی ہیڈ کوارٹرز تک آمد کی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک افغان کشیدگی: وزیراعظم نے اعلیٰ سطح کا اجلاس بلا لیا، آج اہم فیصلے متوقع
حملے کی تفصیلات
حکام نے مزید بتایا کہ تفتیشی ٹیم سہولت کار کی تلاش میں ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حملے کے دن خودکش حملہ آوروں کے زیر استعمال کوئی موبائل فون نہیں تھا۔
واضح رہے کہ 24 نومبر کو فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز میں خودکش دھماکے ہوئے تھے۔ اس واقعے میں 3 ایف سی اہلکار شہید اور تینوں حملہ آور بھی ہلاک ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: جمہوریہ کانگو، وزیر کے طیارے کو آگ لگ گئی، مسافر محفوظ
مقدمہ درج
پولیس نے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز پشاور پر دہشت گردوں کے حملے کا مقدمہ سی ٹی ڈی میں درج کروایا۔ یہ مقدمہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف مقامی ایس ایچ او عبداللہ جلال کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کی تفصیلات
ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں نے ملکی سالمیت اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔ تین موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملہ کیا۔ ایک حملہ آور نے گیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑایا، جبکہ دو حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ جائے وقوعہ سے 27 سے زیادہ خول برآمد ہوئے۔
پولیس کے مطابق ایف سی ہیڈکوارٹرز پر تین دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تین جوان شہید اور 11 زخمی ہوئے تھے۔








