ایف سی ہیڈ کوارٹرز خودکش دھماکا: تینوں حملہ آوروں کے افغان شہری ہونے کی تصدیق
پشاور میں خودکش دھماکے کی تفتیش
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) - پشاور میں فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈ کوارٹرز پر ہونے والے خودکش دھماکوں سے متعلق تفتیش کا آغاز ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کیلئے غیر متزلزل عزم ناگزیر ہے: یوسف رضا گیلانی
حملہ آوروں کی تصدیق
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، تفتیشی حکام نے بتایا کہ نادرا نے ایف سی ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کرنے والے تینوں حملہ آوروں کی افغان شہریت کی تصدیق کر دی ہے۔ تاہم نادرا کو حملہ آوروں کی مزید تفصیلات ابھی تک موصول نہیں ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: جرمنی میں مقیم پاکستانیوں کے لیے بڑی خوشخبری، دونوں ملکوں کے درمیان اہم معاہدہ طے پاگیا
تفتیش کی پیشرفت
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بارے میں اب تک 100 سے زیادہ مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔ حملہ آوروں کی رحمان بابا قبرستان سے ایف سی ہیڈ کوارٹرز تک آمد کی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کریم آباد انڈر پاس 2 برس سے زیر تعمیر، بارش کے بعد اب کیا حالت ہے؟ دیکھ کر رونا آجائے
حملے کی تفصیلات
حکام نے مزید بتایا کہ تفتیشی ٹیم سہولت کار کی تلاش میں ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ حملے کے دن خودکش حملہ آوروں کے زیر استعمال کوئی موبائل فون نہیں تھا۔
واضح رہے کہ 24 نومبر کو فیڈرل کانسٹیبلری (ایف سی) ہیڈکوارٹرز میں خودکش دھماکے ہوئے تھے۔ اس واقعے میں 3 ایف سی اہلکار شہید اور تینوں حملہ آور بھی ہلاک ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پارلیمنٹ ہاؤس میں پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس، 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق امور پر غور
مقدمہ درج
پولیس نے فیڈرل کانسٹیبلری ہیڈکوارٹرز پشاور پر دہشت گردوں کے حملے کا مقدمہ سی ٹی ڈی میں درج کروایا۔ یہ مقدمہ دہشت گردی کی دفعات کے تحت نامعلوم دہشت گردوں کے خلاف مقامی ایس ایچ او عبداللہ جلال کی مدعیت میں درج کیا گیا۔
ایف آئی آر کی تفصیلات
ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں نے ملکی سالمیت اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا۔ تین موٹر سائیکل سوار دہشت گردوں نے ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملہ کیا۔ ایک حملہ آور نے گیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑایا، جبکہ دو حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔ جائے وقوعہ سے 27 سے زیادہ خول برآمد ہوئے۔
پولیس کے مطابق ایف سی ہیڈکوارٹرز پر تین دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس کے نتیجے میں تین جوان شہید اور 11 زخمی ہوئے تھے۔








