پاکستان میں آئینی ترامیم عدلیہ کی آزادی کو کمزور کرتی ہیں: وولکر ترک
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کی تشویش
نیویارک(ڈیلی پاکستان آن لائن) اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے پاکستان میں 27ویں آئینی ترمیم پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چینی سستی نہ ہونے پر حکومت برہم، شوگر ملوں کیخلاف کریک ڈاؤن کی وارننگ
جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے خطرات
روزنامہ جنگ کے مطابق ایک بیان میں وولکر ترک نے ترامیم سے پاکستانی عوام کی جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے خطرے پر تشویش کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مزید 4 افراد کے سر قلم، سعودی عرب میں رواں سال سزائے موت پانے والوں کی تعداد 303 ہوگئی
آئینی ترامیم کے اثرات
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں منظور کی گئیں آئینی ترامیم عدالتی آزادی اور ملک میں اختیارات کی تقسیم کے اصول کے خلاف ہیں، فوجی احتساب اور قانون کی حکمرانی پر بھی شدید خدشات کو جنم دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر پاکستان کی جانب سے غزہ کے لیے مزید امدادی سامان روانہ
مشاورت کی کمی
ان کا کہنا تھا کہ یہ ترمیم بھی گزشتہ سال کی 26ویں ترمیم کی طرح قانونی برادری اور سول سوسائٹی سے مشاورت اور بحث کیے بغیر منظور کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈائمنڈ پینٹس نے 3 ارب روپے کی ماہانہ سیلز کر کے تاریخ رقم کر دی!
عدلیہ پر سیاسی مداخلت کے خطرات
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے کہا کہ ججز کی تقرری، ترقی اور تبادلے کے نظام میں تبدیلیوں سے عدلیہ کو سیاسی مداخلت اور انتظامی کنٹرول کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔
فوجی احتساب پر اثرات
وولکر ترک نے کہا کہ وسیع پیمانے پر دیا جانے والا استثنیٰ مسلح افواج پر جوابدہی کے جمہوری کنٹرول کو کمزور کرتا ہے۔








