این اے 18: مخصوص عناصر ضمنی انتخابات کو متنازع بنا رہے ہیں، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن کا اعلان
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)الیکشن کمیشن آف پاکستان نے حلقہ این اے 18 ہری پور کے انتخابات پر لگائے گئے تمام الزامات مسترد کر دیئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان پر الزام لگاؤ، سچ چھپاؤ اور اپنی عوام کو بیوقوف بناؤ۔۔۔۔بھارتی میڈیا کا پاکستان مخالف شیطانی پروپیگنڈہ پر مبنی کھیل ایک بار پھر بے نقاب
الزامات کی حقیقت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ مخصوص عناصر حسبِ معمول ضمنی انتخابات کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ڈی آر او اور آر او کی تعیناتی کو سازش قرار دینا حقائق کے منافی ہے۔ جنرل الیکشن میں عملے کی کمی کے باعث افسران کی تعیناتی ممکن نہیں ہوتی، جبکہ ضمنی انتخابات میں کمیشن کے افسران ہی ڈی آر او اور آر او مقرر کئے جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش خواتین کرکٹ ٹیم کا بھارت کا دورہ ملتوی، بھارتی میڈیا نے وجہ بتا دی
افسران کی تعیناتی
انہوں نے کہا کہ این اے 18 میں تعینات افسران اسی ایریا میں پہلے سے موجود تھے۔ پولنگ ڈے تک کسی سیاسی جماعت نے تعیناتیوں پر اعتراض نہیں کیا۔ الیکشن ہارنے کے بعد بے بنیاد الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ فارم 45 پہلے سے تیار ہونے کا الزام غلط اور گمراہ کن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سپیکر ریفرنس کیس کا کیا بنا؟ممبر الیکشن کمیشن کا وکیل عمر ایوب سے استفسار
پولنگ اور سکیورٹی انتظامات
الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ پریزائیڈنگ آفیسرز مکمل طور پر صوبائی انتظامیہ نے فراہم کئے تھے۔ الیکشن کمیشن چاہتا تو وفاقی اداروں کے ملازمین بھی لگائے جا سکتے تھے۔ صوبائی انتظامیہ کے عملے نے پولنگ بیگز اور نتائج آر او آفس میں جمع کرائے، جبکہ سکیورٹی انتظامات بھی مکمل طور پر صوبائی حکومت نے فراہم کئے۔
انتخابی عمل کی شفافیت
ترجمان الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہر انتخاب کے بعد ایک جیسے الزامات دہرانا انتخابی عمل کو مشکوک بنانے کی کوشش ہے۔ اگر نتائج پر اعتراض ہے تو قانونی فورم الیکشن ٹربیونل سے رجوع کیا جائے۔ میڈیا پر الزام تراشی سے جمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔








