ہماری پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی، 78 سال میں افغانستان کو اپنا دوست نہیں بنا سکے: مولانا فضل الرحمان کھل کر بول پڑے
مولانا فضل الرحمان کی تنقید
مردان (ڈیلی پاکستان آن لائن) جمعیت علمائے اسلام(ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہماری پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ 78 سال میں ہم افغانستان کو اپنا دوست نہیں بنا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات کی جاتی تھی کہ عمران خان مغربی ایجنڈے پر کام کر رہے تھے، لیکن درحقیقت موجودہ حکومت مغرب کے اصل ایجنڈے پر عمل درآمد کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موت کے قریب شخص میں ظاہر ہونے والی خوفناک نشانیاں کیا ہیں؟ لازمی جانئے
فلسطینی مسئلے پر بات چیت
’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق، مردان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ٹرمپ کے ہاتھوں سے فلسطینیوں کا خون ٹپک رہا ہے، جبکہ شہباز شریف ٹرمپ کو امن کا نوبل دلوانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ اپنے رویوں پر نظرثانی کرنی ہوگی، مسلح گروہوں کو جنگ چھوڑ دینا چاہیے کیونکہ جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان آنے اور پھر ٹھوکریں کھانے کے بعد واپس جانیوالی امریکی خاتون اونیجا کے پاکستانی بوائے فرینڈ نے خاموشی توڑ دی، اعتراف محبت بھی کرلیا
ملکی معیشت اور عوامی حقوق
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی معیشت تباہ ہو چکی ہے اور پاکستان وہ نہیں رہا جس کی عوام نے امیدیں لگائی تھیں۔ حکومت کو عوام کے حقوق دینا چاہئے، لیکن آج آئین کو ایک کھلونا بنا دیا گیا ہے اور عوامی خواہشات کے بجائے بڑے لوگوں کی مرضی چل رہی ہے۔
27 ویں ترمیم کا معاملہ
مولانا فضل الرحمان نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ 27 ویں ترمیم کی منظوری جعلی اکثریت کے ذریعے ہوئی اور اس کے لئے ارکان خریدے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہماری افغان پالیسی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، اور 78 سال میں ہم افغانستان کو اپنا دوست نہیں بنا سکے۔








