گورنر راج جیسے ایڈونچر کی کوشش پر ردعمل انہیں پتا چل جائےگا: وزیراطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان
گورنر راج کے حوالے سے وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی کا ردعمل
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات شفیع جان نے صوبے میں گورنر راج کے حوالے سے خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر گورنر راج لگانا چاہتے ہیں تو آج ہی لگا دیں۔ جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ گورنر راج جیسے ایڈونچر کی کوشش پر ردعمل انہیں پتا چل جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: گھر سے لاپتا ہونے والی شادی شدہ خاتون کو فیس بک کی مدد سے 3 سال بعد تلاش کرلیا گیا
عطا اللہ تارڑ کے الزامات
انہوں نے مزید کہا کہ عطا اللہ تارڑ نے بے بنیاد الزامات لگائے، ثابت کریں کہ ہمارے سیاسی رہنماؤں کا دہشت گردوں سے کوئی گٹھ جوڑ ہے۔ دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ علی امین گنڈاپور کے جانے سے پہلے بھی گورنر راج کی باتیں ہوتی تھیں۔ جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کئی بار گورنر نے خود کہا اور وفاقی وزیر بھی کہتے رہے ہیں، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، آج دوبارہ کسی ایجنڈے کے تحت یہ معاملہ اٹھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بیوی کو قتل کرنے والا شوہر سی سی ٹی وی کی مدد سے گرفتار
وزیر اعلیٰ کو مرعوب کرنے کی کوشش
شیخ وقاص اکرم نے کہا کہ یہ ایک وزیر اعلیٰ کو مرعوب کرنا چاہتے ہیں، اگر وزیراعلیٰ کے خلاف منشیات یا دیگر الزامات متعلق ثبوت ہیں تو ثابت کریں، اگر یہ ایسے الزامات لگا رہے ہیں تو کے پی کے وزیر اعلیٰ کو ہتک عزت کا دعویٰ کرنا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کے پی کے عوام پی ٹی آئی کو ووٹ دیتے ہیں، اگر کسی پارٹی کے مینڈیٹ کو چھینیں گے تو یہ مناسب نہیں ہوگا، اگر یہ لوگ ایسا کرنا چاہتے ہیں تو کر کے دیکھ لیں۔
بیرسٹر عقیل ملک کا بیان
اس سے قبل وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج سے متعلق معاملہ زیر غور ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام نیا پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ دہشت گردی اور سرحد کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے گورنر راج لگانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کی صورتحال سب کے سامنے ہے، خیبر پختونخوا میں ایسا انتظامی ڈھانچہ ہو جو کچھ فائدہ تو دے، کب تک کے صوبے کے شہریوں کو بےیار و مددگار چھوڑیں گے۔








