گوریلا جنگ یا اینارکائزیشن، امریکی حملے کی صورت میں وینیز ویلا کی جنگی حکمت عملی سامنے آگئی
امریکا کا حملہ: وینیزویلا کی فوج کی ممکنہ حکمت عملی
کراکاس (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا کے ممکنہ حملے کی صورت میں وینیزویلا کی فوجی قیادت اور حکمتِ عملی کس رخ پر جا سکتی ہے، اس بارے میں تازہ اشارے سامنے آئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وینیزویلا کے اوپر اور اس سے متصل فضائی حدود کو مکمل طور پر بند تصور کیا جائے، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے صدر نکولس مادورو کی حکومت پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹرمپ اس سے پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ منشیات بردار کشتیوں پر امریکی حملے، جن میں اب تک 80 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں، ممکن ہے زمین تک پھیل جائیں، اگرچہ ان کی مادورو سے ایک فون کال کی بھی اطلاعات ہیں جس میں ممکنہ طور پر وینیزویلا کے صدر کے امریکا دورے پر بات ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم لیگ فنکشنل نے دریائے سندھ بچاؤ تحریک کا اعلان کر دیا، کارکنوں کو احتجاج کے حوالے سے اہم ہدایات جاری
وینیزویلا کی فوج کی کمزوری
خبر ایجنسی روئٹرز کے مطابق فوجی استعداد کے لحاظ سے امریکا کا حجم اور تکنیکی برتری وینیزویلا سے کہیں زیادہ ہے، جبکہ وینیزویلا کی افواج کم تربیت، کم تنخواہوں اور بوسیدہ سازوسامان کی وجہ سے سخت کمزور ہو چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق عام فوجی صرف سو ڈالر ماہانہ کماتے ہیں، جو ایک اوسط خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے درکار رقم کا محض پانچواں حصہ ہے، اور ممکنہ امریکی حملے کی صورت میں پہلے سے موجود بھاگنے کے رجحان میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو ہمیں 7 بھارتی ریاستوں پر قبضہ کر لینا چاہیے، بنگلہ دیش کے اہم ترین عہدیدار کی تجویز
وینیزویلا کی فوجی حکمت عملی
وینیزویلا کی افواج نے حالیہ برسوں میں زیادہ تر سڑکوں پر مظاہرین سے نمٹنے کا تجربہ حاصل کیا ہے۔ مادورو نے اگرچہ آٹھ ملین شہریوں کے ملیشیا کی تربیت کا دعویٰ کیا ہے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل میں چند ہزار خفیہ اداروں کے اہلکار، حکمراں جماعت کے مسلح حامی اور محدود تعداد میں ملیشیا ارکان ہی دفاع میں حصہ لے سکیں گے۔ روسی ساختہ پرانا فوجی سازوسامان بھی وینیزویلا کی کمزوریوں میں شامل ہے۔ سنہ 2000 کی دہائی میں خریدے گئے تقریباً بیس سوخوئی طیاروں سمیت بیشتر اثاثے جدید امریکی جنگی جہازوں کے مقابلے میں کمزور سمجھے جاتے ہیں، جبکہ ہیلی کاپٹر، ٹینک اور کندھے سے داغے جانے والے میزائل بھی پرانے ہو چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے محفوظ مقامات پر منتقل کیے جانے والے مویشیوں کو چارے کی فراہمی شروع کر دی
گوریلا حکمت عملی اور تخریب کاری
حکومتی منصوبہ بندی کے مطابق اگر امریکا نے فضائی یا زمینی کارروائی کی تو وینیزویلا باقاعدہ جنگ کے بجائے گوریلا طرز کے حملوں، تخریب کاری اور چھاپہ مار کارروائیوں پر اتر آئے گا۔ فوج کے اعلیٰ حکام اسے "طویل مزاحمت" کا نام دیتے ہیں، جس کے تحت ملک بھر کے 280 سے زائد مقامات پر چھوٹے چھوٹے یونٹس بکھر کر حملے کریں گے۔ مادورو کی جانب سے حال ہی میں سراہے گئے پانچ ہزار روسی ساختہ ایگلا میزائل پہلے ہی تعینات کیے جا چکے ہیں، اور ہدایت یہ ہے کہ حملے کی صورت میں یونٹس فوری طور پر منتشر ہو کر خفیہ مقامات پر چلے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: شام کی حکومت گرانے والے ابو محمد الجولانی کون ہیں؟
اینارکائزیشن کی حکمت عملی
دوسری حکمت عملی، جسے ذرائع "اینارکائزیشن" کہتے ہیں اور جسے حکومت نے عوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا، میں خفیہ ادارے اور حکمراں جماعت کے مسلح گروہ دارالحکومت کاراکاس میں افراتفری پیدا کر کے ملک کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کریں گے۔ مغربی وینیزویلا میں کولمبیائی جنگجو گروہ این ایل اے بھی سرگرم ہیں، جبکہ یہی علاقہ کوکا کی کاشت کا مرکز ہے۔ حکومت کے حامی مسلح گروہ، جنہیں ’کلیکٹیوز‘ کہا جاتا ہے، اکثر موٹر سائیکل قافلوں کی شکل میں ظاہر ہو کر مظاہرین کا مقابلہ کرتے ہیں۔
ایک نازک صورتحال
اپوزیشن جماعتیں، انسانی حقوق کی تنظیمیں، واشنگٹن اور کئی لاطینی امریکی حکومتیں مادورو اور فوج پر منشیات اسمگلنگ کے گروہوں سے تعلقات کے الزامات لگاتی رہی ہیں، جبکہ وینیزویلا کی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے اور کہتی ہے کہ امریکا اس کے وسیع تیل کے ذخائر پر قبضے کے لیے حکومت تبدیل کرنا چاہتا ہے۔








