آسٹریلیا کی 31 سالہ معروف انفلوئنسر کی لاش ہمسایہ ملک کے جنگل سے ایک سوٹ کیس میں برآمد
سڈنی: گمشدہ بیوٹی انفلوئنسر کا معمہ حل
آسٹریا کی 31 سالہ معروف بیوٹی انفلوئنسر اور میک اپ آرٹسٹ اسٹیفنی پیپر کی پانچ روز سے جاری گمشدگی کا معمہ حل ہوگیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائیکورٹ کا پولی گرافک ٹیسٹ کے پروٹو کولز پیش کرنے کا حکم
لاش کا ملنا
غیر ملکی میڈیا کے مطابق آسٹریا کی اسٹیفنی کی لاش ہمسایہ ملک سلووینیا کے جنگل سے ایک سوٹ کیس میں برآمد ہوئی، جس نے دونوں ممالک میں شدید سنسنی پھیلا دی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں رمضان المبارک کا چاند نظر آگیا، کل پہلا روزہ ہوگا
آخری مشاهده
رپورٹس کے مطابق اسٹیفنی پیپر کو آخری مرتبہ ایک ہالیڈے پارٹی میں دیکھا گیا تھا۔ اسی رات انہوں نے اپنے دوستوں کو پیغام بھیجا کہ سیڑھیوں پر کوئی عجیب آدمی ہے، ایک سیاہ سایہ، جس کے بعد خدشات ظاہر کیے گئے کہ شاید کوئی ان کا پیچھا کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جن کھلاڑیوں اور آفیشلز کا ماضی میں کردار مشکوک رہا، ان کے سایہ سے بھی پاکستان کرکٹ کو دور رکھا جائے، علی محمد خان
تحقیقات کا آغاز
پانچ روز کی تلاش کے بعد پولیس کو سلووینیا کے جنگل میں ایک سوٹ کیس سے ان کی لاش ملی۔ واقعے کی گتھی تحقیقات کے دوران اس وقت سلجھی جب پولیس نے اسٹیفنی کے سابق بوائے فرینڈ کو حراست میں لیا۔ آسٹریائی میڈیا کے مطابق ملزم نے دورانِ تفتیش اسٹیفنی کا گلا گھونٹ کر قتل کرنے کا اعتراف کیا اور لاش کی نشاندہی بھی خود کی۔
یہ بھی پڑھیں: کلثوم نواز کی لاش کا مذاق اُڑانے والے عمران خان اور اُن کا خاندان مکافات عمل کا شکار ہے، انتقامی کارروائی کا نہیں، اختیار ولی خان
مزید شواہد
حکام کا کہنا ہے کہ شواہد سے پتا چلا ہے کہ ملزم متعدد بار اپنی کار کے ذریعے سلووینیا گیا تھا اور واقعے کے بعد کئی روز تک غائب رہا، جس سے شبہ مزید گہرا ہوگیا۔
اسٹیفنی کی شناخت
اسٹیفنی پیپر آسٹریا کے شہر گراز میں سلووینیا کی سرحد کے قریب رہائش پذیر تھیں۔ وہ ملک کی مشہور بیوٹی انفلوئنسر، میک اَپ آرٹسٹ اور گلوکارہ تھیں۔ انسٹاگرام پر وہ میک اپ لکس، بیوٹی ٹپس اور پروڈکٹ ریویوز پر مشتمل کانٹینٹ بناتی تھیں۔








