کراچی: گٹر میں گرا 3 سالہ بچہ 12 گھنٹے بعد بھی نہ مل سکا، شہری مشتعل، سڑک بلاک
کراچی میں 3 سالہ بچہ گٹر میں گر گیا
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) رات کو گٹر میں گرنے والا 3 سالہ بچہ ابراہیم 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود تلاش نہیں ہو سکا، جس کے باعث شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے سڑک بلاک کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: علی امین گنڈاپور نے وزیر داخلہ محسن نقوی سے ہاتھ خوشی کے ساتھ نہیں ملایا، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان کا بیان
واقعہ کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، کراچی کے علاقے گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب کمسن بچہ کھلے مین ہول میں گرگیا تھا۔ یہ حادثہ رات 11 بجے کے قریب پیش آیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے بچے کی تلاش شروع کی مگر ناکام رہے، جس کے بعد ریسکیو آپریشن کو عارضی طور پر روک دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: قاضی فائز عیسیٰ کے بغیر 26ویں آئینی ترمیم نہیں ہوسکتی، کالے سانپ کے نام پر پورے عمل کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی: بلاول بھٹو
ریسکیو آپریشن میں مشکلات
ریسکیو حکام نے بتایا کہ اب تک پانچ مقامات پر کھدائی کی گئی، مگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ متعلقہ محکموں کی عدم موجودگی نے سرچ آپریشن میں رکاوٹ پیدا کی۔
یہ بھی پڑھیں: 4 کروڑ 10 لاکھ روپے مالیت کی اسمگل شدہ اشیاء اور ٹرالر ضبط
محکمہ کی عدم موجودگی
زرائع کے مطابق، واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور کے ایم سی کا عملہ ابھی تک جائے حادثہ پر نہیں پہنچا۔ ریسکیو حکام نے کہا کہ ان کے پاس کھدائی کے لیے مشینری کا فقدان ہے اور کسی بھی سرکاری ادارے کا افسر اس وقت موجود نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (بدھ) کا دن کیسا رہے گا ؟
مقامی افراد کی مدد
رات گئے ریسکیو آپریشن رکنے کے بعد، عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت ہیوی مشینری منگوائی اور جائے وقوعہ پر کھدائی کا عمل جاری ہے۔ بچے کی شناخت 3 سالہ ابراہیم ولد نبیل کے نام سے ہوئی، جو اپنے خاندان کے ہمراہ ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں شاپنگ کے لیے آیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد میں مظاہرین نے سکول کا گھیراو کر کے 6 سو پولیس اہلکاروں کو محصور کرلیا
بچے کے والدین کا بیان
بچے کے والد کا کہنا ہے کہ شاپنگ کرنے کے بعد جب وہ نکلے تو بچہ ہاتھ چھڑاکر بھاگا، اور ایک موٹر سائیکل کے قریب موجود مین ہول میں گر گیا۔
بچے کے دادا محمود الحسن نے بتایا کہ جب بچہ والد کے پیچھے آیا تو وہ کھلے ہوئے مین ہول میں گرا۔ ابراہیم والدین کا اکلوتا بیٹا ہے اور والدین ریسکیو کے کام سے مطمئن نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی صدر کی گاڑی راستے میں بند، ٹیکسی میں سفر کرنا پڑ گیا
احتجاج کا آغاز
نیپا چورنگی پر شہریوں نے احتجاج شروع کیا اور ٹائر جلا کر سڑک بند کر دی۔ مشتعل افراد نے نیپا چورنگی سے حسن سکوائر جانے والی سڑک بھی بند کر دی، اور پتھراؤ شروع کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وقار سیٹھ کے فیصلے پر پہلے تنقید بعد میں عالمی عدالت میں حوالے دیے گئے، آئینی بینچ
سندھ حکومت کا ردعمل
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے بتایا کہ انکوائری شروع کردی گئی ہے کہ مین ہول کا ڈھکن کیوں نہیں تھا، اور جن کی غفلت ہوگی ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ڈپٹی میئر کا نوٹس
ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تمام ریسکیو اداروں کو الرٹ کردیا ہے اور بچوں کو جلد تلاش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ریسکیو ٹیمیں اور کے ایم سی عملہ موقع پر موجود ہیں۔








