کراچی: گٹر میں گرا 3 سالہ بچہ 12 گھنٹے بعد بھی نہ مل سکا، شہری مشتعل، سڑک بلاک
کراچی میں 3 سالہ بچہ گٹر میں گر گیا
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) رات کو گٹر میں گرنے والا 3 سالہ بچہ ابراہیم 12 گھنٹے گزرنے کے باوجود تلاش نہیں ہو سکا، جس کے باعث شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے سڑک بلاک کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا تل ابیب پر ’ہائپر سونک‘ الفتح میزائل داغے جانے کا دعویٰ
واقعہ کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق، کراچی کے علاقے گلشن اقبال نیپا چورنگی کے قریب کمسن بچہ کھلے مین ہول میں گرگیا تھا۔ یہ حادثہ رات 11 بجے کے قریب پیش آیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے بچے کی تلاش شروع کی مگر ناکام رہے، جس کے بعد ریسکیو آپریشن کو عارضی طور پر روک دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس شدید متاثر
ریسکیو آپریشن میں مشکلات
ریسکیو حکام نے بتایا کہ اب تک پانچ مقامات پر کھدائی کی گئی، مگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ متعلقہ محکموں کی عدم موجودگی نے سرچ آپریشن میں رکاوٹ پیدا کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے سرنڈر کی کہانیاں فضول ہیں: پی سی بی
محکمہ کی عدم موجودگی
زرائع کے مطابق، واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور کے ایم سی کا عملہ ابھی تک جائے حادثہ پر نہیں پہنچا۔ ریسکیو حکام نے کہا کہ ان کے پاس کھدائی کے لیے مشینری کا فقدان ہے اور کسی بھی سرکاری ادارے کا افسر اس وقت موجود نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ڈیزائنر نے رانی مکھرجی کی خفیہ شادی سے متعلق انکشاف کردیا
مقامی افراد کی مدد
رات گئے ریسکیو آپریشن رکنے کے بعد، عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت ہیوی مشینری منگوائی اور جائے وقوعہ پر کھدائی کا عمل جاری ہے۔ بچے کی شناخت 3 سالہ ابراہیم ولد نبیل کے نام سے ہوئی، جو اپنے خاندان کے ہمراہ ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں شاپنگ کے لیے آیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: امکان ہے کہ پاکستان اب سعودی پیسوں سے امریکی ہتھیار خرید سکے گا جس کی اسے ضرورت ہے: حسین حقانی
بچے کے والدین کا بیان
بچے کے والد کا کہنا ہے کہ شاپنگ کرنے کے بعد جب وہ نکلے تو بچہ ہاتھ چھڑاکر بھاگا، اور ایک موٹر سائیکل کے قریب موجود مین ہول میں گر گیا۔
بچے کے دادا محمود الحسن نے بتایا کہ جب بچہ والد کے پیچھے آیا تو وہ کھلے ہوئے مین ہول میں گرا۔ ابراہیم والدین کا اکلوتا بیٹا ہے اور والدین ریسکیو کے کام سے مطمئن نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جواء ایپ پروموشن کیس: یوٹیوبر ڈکی بھائی کی ضمانت منظور
احتجاج کا آغاز
نیپا چورنگی پر شہریوں نے احتجاج شروع کیا اور ٹائر جلا کر سڑک بند کر دی۔ مشتعل افراد نے نیپا چورنگی سے حسن سکوائر جانے والی سڑک بھی بند کر دی، اور پتھراؤ شروع کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: متنازع ٹوئٹ کا کیس، سماعت کے دوران پراسیکوشن اور ایمان مزاری کے شوہر کے درمیان تلخی، ہاتھا پائی کی کوشش
سندھ حکومت کا ردعمل
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید نے بتایا کہ انکوائری شروع کردی گئی ہے کہ مین ہول کا ڈھکن کیوں نہیں تھا، اور جن کی غفلت ہوگی ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
ڈپٹی میئر کا نوٹس
ڈپٹی میئر کراچی سلمان مراد نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تمام ریسکیو اداروں کو الرٹ کردیا ہے اور بچوں کو جلد تلاش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ ریسکیو ٹیمیں اور کے ایم سی عملہ موقع پر موجود ہیں۔








