سال بھر میں کوئی سو پچاس چھوٹے بڑے حادثات تو پاکستان ریلوے میں معمول کی بات ہے، کچھ حادثات کا تو اخباروں میں ذکر تک بھی نہیں ہوتا
مصنف
محمدسعیدجاوید
یہ بھی پڑھیں: سکول اساتذہ کیلئے ڈریس کوڈ کی نئی ہدایات جاری ، فی میل ٹیچرز پر بھی پابندی لگ گئی
قسط
325
یہ بھی پڑھیں: کراچی پولیس کو اہم احکامات جاری
وطن عزیز میں خوفناک ترین حادثات
ویسے تو پاکستان ریلوے کی تاریخ حادثات سے بھری پڑی ہے، لیکن ان میں سے اکثر وہ ہوتے ہیں جن میں جانی نقصان نہیں ہوتا یا نسبتاً کم ہوتا ہے۔ سال بھر میں کوئی سو پچاس چھوٹے بڑے حادثات تو پاکستان ریلوے میں معمول کی بات ہے، کچھ حادثات کا تو اخباروں میں ذکر تک بھی نہیں ہوتا تاہم یہ ریلوے کی کارکردگی پر ایک دھبہ ہیں اور عالمی سطح پر تکنیکی اور حفاظتی معیار سے پاکستان ریلوے انتہائی نچلے درجے پر کھڑی ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں تو اس قسم کی کارکردگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کو علاج کے لیے باہر بھیجنا پڑا تو ضرور بھیجیں گے، وفاقی وزیر طارق فضل چودھری
پاکستان کی تاریخ میں بڑے حادثات
- 1953ء: سندھ میں جھمپیر کے مقام پر حادثے میں 200 سے زیادہ اموات ہوئیں۔
- 1954ء: سندھ میں جنگ شاہی کا حادثہ 60 جانیں لے گیا۔
- 1957ء: اوکاڑہ کے نزدیک گیمبر میں حادثہ ہوا جس میں 300 لوگ جاں بحق ہوئے۔
- 1969ء: لیاقت پور میں غلط کانٹا بدلنے سے ایکسپریس گاڑی مال گاڑی سے جا ٹکرائی، 80 لوگ جاں بحق ہوئے۔
- 1981ء: پشاور جانے والی عوام ایکسپریس پٹری سے اتری اور 30 لوگ جان سے گئے۔
- اکتوبر 1987ء: بس کے ساتھ تصادم میں 28 لوگوں کی موت ہوئی، جو سندھ میں مورو کے مقام پر پیش آیا۔
- 1990ء: سانگی پنوں عاقل سندھ میں پاکستان کی تاریخ کا سنگین حادثہ، 307 لوگ جاں بحق ہوئے۔
- 1991ء: گھوٹکی سندھ میں ایک اور حادثہ، 100 کے قریب لوگ ہلاک ہوئے۔
- 1992ء: اسی گھوٹکی اسٹیشن پر دوبارہ حادثہ، 50 سے زائد قیمتی جانیں نگل گیا۔
- مارچ 1997ء: خانیوال پنجاب میں عجیب و غریب حادثہ، 14 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








