گنے کی ٹرالیوں کو اوورلوڈنگ کے الزام میں روکنا ،مقدمات درج کرنا کسانوں کی معاشی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے: ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ
ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ کی مذمت
بھکر (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ نے گنے کی موجودہ کٹائی و کرشنگ سیزن کے دوران گنا سپلائی کرنے والی ٹرالیوں کو روکنے، ڈرائیورز و مالکان کے خلاف ایف آئی آرز درج کرنے اور چالان کرنے کے حکومتی اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پرندوں کی حفاظت: ایک ضروری اقدام
موٹر وہیکل (ترمیمی) آرڈیننس 2025ء
انہوں نے کہا کہ عین گنے کے سیزن میں موٹر وہیکل (ترمیمی) آرڈیننس 2025ء کا نفاذ کسانوں پر سراسر ظلم ہے۔ گنے کی ٹرالیوں کو اوورلوڈنگ کے الزام میں روکنا اور ان پر مقدمات درج کرنا نہ صرف کسانوں کی معاشی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے بلکہ شوگر ملز کو بروقت گنے کی سپلائی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف8 اسلام آباد صرف 45 دن میں بننے والا روڈ 45 دن بھی نہ چل سکا، پی ٹی آئی
وزیراعلیٰ پنجاب کی اپیل
ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے فوری اپیل کی ہے کہ موجودہ گنے کے سیزن (2025-26) کے دوران گنے کی ٹرالیوں کو موٹر وہیکل ترمیمی آرڈیننس کی شقوں سے مکمل استثنیٰ دیا جائے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگلے سیزن تک کسان متبادل اور معیاری ٹرانسپورٹ کا بندوبست کر لیں گے، مگر اس سیزن میں یکدم پابندی لگانا کسان دشمن اقدام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مجھے یورپ سے پیار ہے مگر وہ سیدھے راستے پر نہیں چل رہا، ڈونلڈ ٹرمپ
دوہرا نقصان
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس پابندی سے دوہرا نقصان ہو رہا ہے:
- شوگر ملز کو گنا بروقت نہیں ملے گا جس سے چینی کی پیداوار متاثر ہوگی۔
- گنے کی کٹائی کے بعد زمین فارغ ہونے پر ربیع کی فصل (خاص طور پر گندم) کی بوائی کا عمل شدید متاثر ہوگا، جس سے قومی غذائی تحفظ کو بھی خطرہ لاحق ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: نیچے کسی کا گھر ہے، اوپر اجازت کے بغیر آپ نہیں جاسکتے، تین بجے تک میرے ساتھ رابطے میں رہی : صحافی ہرمیت سنگھ
حکومت سے مطالبات
ڈاکٹر محمد افضل خان ڈھانڈلہ نے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر گنے کی ٹرالیوں کو استثنیٰ دیا جائے، تمام درج شدہ ایف آئی آرز و چالانز واپس لیے جائیں اور ڈرائیورز کو ہراساں کرنا بند کیا جائے تاکہ کسان پرامن انداز میں اپنی فصل کی سپلائی کر سکیں۔
کسان کی اہمیت
انہوں نے آخر میں کہا کہ ’’کسان پنجاب کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اسے سیزن کے وسط میں مشکلات میں نہیں ڈالا جا سکتا۔‘‘








