بلال بن ثاقب کے استعفی کے بعد بھارتی میڈیا کا جھوٹا پراپیگنڈا
بلال بن ثاقب کا استعفیٰ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بلاک چین اور کرپٹوکرنسی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ یہ ا قدم بھارتی میڈیا کی جانب سے جھوٹے پروپیگنڈے کی شروعات کا سبب بن گیا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، نوجوانوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے والا ملزم بلال عباس CCD کے مقابلے میں ہلاک
قانونی وجوہات
یاد رہے کہ بلال بن ثاقب نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے ساتھ ساتھ پاکستان ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی (PVARA) کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ Rules of Business 1973 کے مطابق کوئی شخص وزیر اعظم کا معاون خصوصی نہیں ہو سکتا اگر وہ کسی قانونی ریگولیٹری اتھارٹی، جیسے PVARA کا چیئرمین ہو۔ اس بات کی وجہ سے بلال بن ثاقب نے یہ فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کال سینٹر میں کام کرنے والی 24 سالہ لڑکی پر اسرار طور پر جاں بحق، پولیس کی دوڑیں لگ گئیں
بھارتی میڈیا کا جھوٹا پراپیگنڈہ
بلال بن ثاقب کے استعفیٰ کی خبر سامنے آتے ہی بھارتی میڈیا نے جھوٹے پروپیگنڈے کا آغاز کر دیا۔ معروف بھارتی صحافی رجت شرما نے یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ بلال کو وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف کے عہدے کا نوٹیفیکیشن ابھی تک جاری نہیں ہوا، جو کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان اختلافات کی علامت ہے۔
افواہیں اور قیاس آرائیاں
رجت شرما نے مزید یہ دعویٰ کیا کہ جنرل عاصم منیر کی ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ 'کرپٹو کنگ' بلال بن ثاقب کے کردار کی وجہ سے ہوئی تھی۔








