بچوں کی ٹانگیں زمین پر لگتی نہیں اور موٹر سائیکل دیدیتے ہیں: موٹروہیکل آرڈیننس ترامیم کیخلاف درخواست مسترد
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)— لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے کی جانے والی موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترامیم کے خلاف درخواست کو مسترد کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: بہن کو توہین آمیز الفاظ کہنے والی خاتون کو بھاری جرمانہ
درخواست گزار کا مؤقف
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترامیم کے خلاف آصف شاکر ایڈووکیٹ کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار نے مؤقف اپنایا کہ پولیس کم عمر بچوں پر ایف آئی آرز درج کر رہی ہے جبکہ قانونی ترامیم کے ذریعے بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو ٹریفک قوانین سے آگاہی دینے کی بجائے جرمانہ اور ایف آئی آر کرنا نامناسب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 24 نومبر کو کوئی رہائی نہیں ہو رہی، سینیٹر فیصل واوڈا
چیف جسٹس کا ریمارکس
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت بھاری جرمانوں کے لیے کی گئی ترامیم کالعدم قرار دے۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ حکومت نے قانون بنا دیا ہے، اس پر عمل کریں۔ یہ درست نہیں کہ آپ قانون کے خاتمے کے لیے عدالت میں آئے ہیں۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ "بچے موٹرسائیکل تیز رفتاری سے چلاتے ہیں اور جرمانہ زیادہ اس لیے رکھا گیا کہ لوگ خلاف ورزی نہ کریں۔" انہوں نے بتایا کہ پولیس نے کہا ہے کہ 5 ہزار کم عمر ڈرائیور ون وے کی خلاف ورزی سے حادثات میں زخمی اور فوت ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: کوہستان کرپشن سکینڈل، نیب کی بڑی کارروائی ، 25 ارب کے اثاثے ضبط، کنٹریکٹر گرفتار، اہم شخصیات سے ڈیلز کا انکشاف
عالمی تناظر میں ٹریفک قوانین
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ دنیا بھر میں ٹریفک کی خلاف ورزی پر بہت زیادہ جرمانے ہوتے ہیں۔ دبئی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ایک لاکھ درہم تک جرمانے ہوتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہمارے بچوں کی سیفٹی بہت ضروری ہے، لہٰذا ہمیں قانون پر عمل کرنے والا بننا چاہیے۔" حکومت نے پہلی خلاف ورزی پر جرمانہ اور دوسری خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کا کہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں آن لائن ٹیکسی ڈرائیورز کے ساتھ وارداتیں کرنے والے گینگ کا سرغنہ ساتھی سمیت گرفتار
قانون کی اہمیت
عدالت نے کہا کہ قانون سوسائٹی کو بہتر کرنے کے لیے بنتے ہیں۔ شہریوں کو ذمہ دار بنانے کے لیے قانون سازی ضروری ہے، اور والدین کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔
درخواست کی مستردگی
بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ نے درخواست کو ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کر دیا۔








