دکانداروں نے اتنی خاطر تواضع کی کہ میں حیران رہ گیا، مجھے بھارت میں پاکستان کے بارے میں بتا کر جس طرح خوف زدہ کیا گیا تھا وہ سب غلط نکلا
مصنف کی تفصیلات
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 237
یہ بھی پڑھیں: رشتے، پیار اور زندگی کے ہوتے ہیں، اچھا وقت جہاں گزرا ہو وہاں سے الوداع ہوتے دکھ زیادہ اور خوشی کم ہوتی ہے، آنکھوں میں نمی اور آواز بھر جاتی ہے۔
الیکشن کی تیاری
الیکشن کے لیے امیدواران سال بھر پہلے تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ مراسلاتی اور مواصلاتی رابطوں کے علاوہ ملک بھر کا دورہ کر کے سپریم کورٹ کے وکلاء سے ووٹ کی درخواست کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں معدنیات کے خزانے کی سرویلنس مؤثر بنانے کا حکم جاری، پلسر گولڈ اور آئرن سے متعلق جامع بزنس پلان طلب
عدلیہ کی آزادی کی تحریک
عدلیہ کی آزادی کے لیے پاکستانی وکلاء نے جو زبردست تحریک چلائی تھی، بھارت کے کچھ شہروں، دہلی سمیت، وکلاء نے ان کی حمایت میں مظاہرے کئے تھے۔ اس حمایت کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وکیل کسی بھی ملک کا ہو دراصل وہ عدل، انصاف اور جمہوریت کا علمبردار اور قانون کا محافظ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کاڈ لیور آئل: اٹھارویں صدی کی بدبودار دوا جو کمزور ہڈیوں کے لیے آج بھی اہم ہے
پاکستان اور بھارت کی جمہوریت
بھارت کے برعکس پاکستان میں جمہوریت کی صورت حال مختلف رہی ہے۔ وہاں 4 بار جرنیلوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ افسوسناک بات یہ تھی کہ ہر بار فوجی جرنیلوں کے ماورائے آئین اقدامات کو پاکستان سپریم کورٹ نے جائز قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کے خلاف اسلام آباد میں عورت مارچ کا مظاہرہ، عام شہریوں کی بھی شرکت
بھارتی سپریم کورٹ کا دباؤ
بھارتی سپریم کورٹ کو 1974ء میں دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی جب چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ پر اگلے سینئر جج کی بجائے وزیراعظم اندراگاندھی نے چوتھے نمبر والے جج کو چیف جسٹس بنا دیا تھا۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں کی بار ایسوسی ایشنز کے ارکان نے اس چیف جسٹس کے خلاف جلسے اور مظاہرے کئے کہ وہ عہدہ چھوڑ دیں، لیکن انہوں نے عہدہ نہیں چھوڑا۔
یہ بھی پڑھیں: دریا میں پانی کا بہاؤ کتنا تھا اور الرٹ کب جاری کیا گیا؟ سوات واقعے پر محکمہ آبپاشی کی رپورٹ جاری
پارلیمنٹ کی خاموشی
بھارتی پارلیمنٹ نے اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں کی کیونکہ بھارتی آئین کے مطابق کسی جج کے خلاف کارروائی کے لیے پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت ضروری ہوتی ہے، جو ناممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آپ کا آئندہ ہفتہ ستاروں کی روشنی میں کیسا گزرے گا؟
کرپٹ ججوں کے خلاف کارروائی
ایسے حالات میں کرپٹ ججوں کے خلاف کارروائی کے لیے ایک مضبوط جیوڈیشل کمیشن کی ضرورت ہے۔ اس کے کم از کم 9 ارکان ہوں، جن میں سے 5 سینئر ترین حاضر سروس یا ریٹائرڈ جج ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: موٹر سائیکل سوار خاتون و مرد کی فائرنگ سے نجی ٹی وی کا اینکر زخمی
جیوڈیشل کمیشن کا کردار
سپریم کورٹ بار کا ایک نمائندہ لیا جائے، ایک نمائندہ حکومت کا ہو، اپوزیشن لیڈر بھی اس کا ممبر ہو، اور ایک نمائندہ سول سوسائٹی کے دانشور طبقوں میں ممتاز حیثیت رکھنے والا کوئی شخص ہو۔ ऐसे کمیشن کو عوام کا اعتماد بھی حاصل ہوگا اور کارروائی کو بہتر کرے گا۔ یہ نظام امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابراعظم کے نئے گھر کی تعمیر مکمل، والد اعظم صدیق نے جذباتی پیغام شیئر کردیا
پاکستان کا دورہ
اس سوال کے جواب میں کہ کیا کبھی پاکستان جانا ہوا، کرشنامنی نے کہا کہ 2003ء میں کراچی گیا تھا۔ وہاں ایک دوست کے پاس ٹھہرا۔ مجھ پر عجب سا وہم طاری تھا کہ اکیلا باہر نہ جاؤں۔
یہ بھی پڑھیں: فلڈ ریلیف آپریشن کے دوران انتقال کرنے والے اسسٹنٹ کمشنر فرقان احمد کو سول ایوارڈ دینے کا فیصلہ
تجربہ اور احساسات
میرا دوست مجھے مارکیٹ لے گیا اور وہاں لوگوں کو بتایا کہ میں انڈیا سے آیا ہوں۔ میری توقع کے خلاف دکانداروں نے میری اتنی خاطر تواضع کی کہ میں حیران رہ گیا۔ مجھے بھارت میں پاکستان کے بارے میں بتا کر جس طرح خوف زدہ کیا گیا تھا، وہ سب غلط نکلا۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








