دکانداروں نے اتنی خاطر تواضع کی کہ میں حیران رہ گیا، مجھے بھارت میں پاکستان کے بارے میں بتا کر جس طرح خوف زدہ کیا گیا تھا وہ سب غلط نکلا

مصنف کی تفصیلات

مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 237

یہ بھی پڑھیں: پیدا ہونے کے بعد اذان کے بعد گولیوں کی آواز سنی، ان سے نہ ڈراؤ، آصف علی زرداری

الیکشن کی تیاری

الیکشن کے لیے امیدواران سال بھر پہلے تیاری شروع کر دیتے ہیں۔ مراسلاتی اور مواصلاتی رابطوں کے علاوہ ملک بھر کا دورہ کر کے سپریم کورٹ کے وکلاء سے ووٹ کی درخواست کی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پہلی مرتبہ پٹری 1889ء کے سیلاب میں بہہ گئی جبکہ اسے بنائے صرف 2 برس ہوئے تھے، سیلابی کیفیت سے چھوٹے بڑے پلوں کو بھی شدیدنقصان پہنچا

عدلیہ کی آزادی کی تحریک

عدلیہ کی آزادی کے لیے پاکستانی وکلاء نے جو زبردست تحریک چلائی تھی، بھارت کے کچھ شہروں، دہلی سمیت، وکلاء نے ان کی حمایت میں مظاہرے کئے تھے۔ اس حمایت کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وکیل کسی بھی ملک کا ہو دراصل وہ عدل، انصاف اور جمہوریت کا علمبردار اور قانون کا محافظ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں استحکام

پاکستان اور بھارت کی جمہوریت

بھارت کے برعکس پاکستان میں جمہوریت کی صورت حال مختلف رہی ہے۔ وہاں 4 بار جرنیلوں نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ افسوسناک بات یہ تھی کہ ہر بار فوجی جرنیلوں کے ماورائے آئین اقدامات کو پاکستان سپریم کورٹ نے جائز قرار دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی میں اختلافات، پارٹی کے واٹس ایپ گروپس میں سلمان اکرم راجا پر تنقید

بھارتی سپریم کورٹ کا دباؤ

بھارتی سپریم کورٹ کو 1974ء میں دباؤ میں لانے کی کوشش کی گئی جب چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ پر اگلے سینئر جج کی بجائے وزیراعظم اندراگاندھی نے چوتھے نمبر والے جج کو چیف جسٹس بنا دیا تھا۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں کی بار ایسوسی ایشنز کے ارکان نے اس چیف جسٹس کے خلاف جلسے اور مظاہرے کئے کہ وہ عہدہ چھوڑ دیں، لیکن انہوں نے عہدہ نہیں چھوڑا۔

یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: شلوار قمیض پہننے کی وجہ سے شہری کو ریسٹورنٹ سے نکال دیا گیا، سوشل میڈیا پر ہنگامہ، لیکن دراصل کیا ہوا؟ تصویر کے دونوں رخ دیکھیے۔

پارلیمنٹ کی خاموشی

بھارتی پارلیمنٹ نے اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہیں کی کیونکہ بھارتی آئین کے مطابق کسی جج کے خلاف کارروائی کے لیے پارلیمنٹ کی دو تہائی اکثریت ضروری ہوتی ہے، جو ناممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پولیس نے لاہور میں متعدد وکلاء کو حراست میں لیا

کرپٹ ججوں کے خلاف کارروائی

ایسے حالات میں کرپٹ ججوں کے خلاف کارروائی کے لیے ایک مضبوط جیوڈیشل کمیشن کی ضرورت ہے۔ اس کے کم از کم 9 ارکان ہوں، جن میں سے 5 سینئر ترین حاضر سروس یا ریٹائرڈ جج ہوں۔

یہ بھی پڑھیں: ملائیشیا کے وزیراعظم سے رابطہ، شہباز شریف نے افغانستان سے دہشتگردی پر اعتماد میں لیا

جیوڈیشل کمیشن کا کردار

سپریم کورٹ بار کا ایک نمائندہ لیا جائے، ایک نمائندہ حکومت کا ہو، اپوزیشن لیڈر بھی اس کا ممبر ہو، اور ایک نمائندہ سول سوسائٹی کے دانشور طبقوں میں ممتاز حیثیت رکھنے والا کوئی شخص ہو۔ ऐसे کمیشن کو عوام کا اعتماد بھی حاصل ہوگا اور کارروائی کو بہتر کرے گا۔ یہ نظام امریکہ، کینیڈا اور آسٹریلیا میں موجود ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فیصل آباد: نہروں میں نہانے کے دوران ہلاکتوں میں تشویشناک اضافہ

پاکستان کا دورہ

اس سوال کے جواب میں کہ کیا کبھی پاکستان جانا ہوا، کرشنامنی نے کہا کہ 2003ء میں کراچی گیا تھا۔ وہاں ایک دوست کے پاس ٹھہرا۔ مجھ پر عجب سا وہم طاری تھا کہ اکیلا باہر نہ جاؤں۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور کی فضائی حدود مختلف روٹس کیلئے دوبارہ بند، نیا نوٹم جاری

تجربہ اور احساسات

میرا دوست مجھے مارکیٹ لے گیا اور وہاں لوگوں کو بتایا کہ میں انڈیا سے آیا ہوں۔ میری توقع کے خلاف دکانداروں نے میری اتنی خاطر تواضع کی کہ میں حیران رہ گیا۔ مجھے بھارت میں پاکستان کے بارے میں بتا کر جس طرح خوف زدہ کیا گیا تھا، وہ سب غلط نکلا۔

نوٹ

یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...