سینیٹ سے نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی کے قیام کا بل منظور
سینیٹ میں نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی بل 2025 کی منظوری
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ نے نیشنل ایگری ٹریڈ اینڈ فوڈ سیفٹی اتھارٹی بل 2025 منظور کرلیا جس کے تحت اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور ہائی کورٹ کا پنجاب حکومت کو گندم کی قیمتیں مقرر کرنے سے متعلق قانون پر عملدرآمد کا حکم
اجلاس کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ اجلاس کی صدارت پریزائنڈنگ افسر شہادت اعوان نے کی۔ یہ بل وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: گاڑیوں کے پرانے اور ٹیڑھے رمز کو نیا جیسا کیسے بنایا جاتا ہے؟
سالانہ رپورٹس کی پیشی
اصولی پالیسی کی نگرانی و عمل درآمد سے متعلق سالانہ چار سالہ رپورٹس بھی سینیٹ میں پیش کی گئیں، جو وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیں۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ انصاری کو زارا نور عباس کے ڈانس کی تعریف کرنے پر شدید تنقید کا سامنا
بل کی پیشکش اور اعتراضات
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ بل 14 نومبر کو رانا تنویر حسین نے پیش کیا تھا۔ بل پر آخری لمحات میں اعتراضات اٹھائے گئے تھے، جن ترامیم پر اعتراض تھا وہ سب واپس لے لی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: یونہی چلتی رہے بات اردو کی
ملازمین کی نوکریاں محفوظ
وزیر قانون نے کہا کہ ادارے کے کسی ملازم کو نوکری سے فارغ نہیں کیا جائے گا، متاثر ہونے والے ملازمین کو سرپلس پول بھجوا دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام سانحہ اور اس کے بعد کی صورتحال: برصغیر پاک و ہند کے امن پسند ہمسائیوں کا مشترکہ بیان برائے امن
ایف بی آر کے ٹیکسٹ پیغامات پر توجہ
سینیٹر اسد قاسم نے ایف بی آر کی جانب سے فائلرز کو بینک بیلنس اور لین دین رقم سے متعلق ٹیکسٹ پیغامات بھجوانے سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس جمع کروایا۔
سینیٹر اسد قاسم نے سوال اٹھایا کہ ایف بی آر ہمارے مالی لین دین کی اطلاعات کس طرح ایسے نشر کر رہا ہے؟ یہاں تو لوگ اپنی بیویوں سے بھی بینک بیلنس چھپاتے ہیں۔ میرا بطور ٹیکس گزار یہ حق ہے کہ میں بینک بیلنس سے متعلق معلومات اپنے فون کے ذریعے نہیں جاننا چاہتا، یہ معاملات راز داری کے ہوتے ہیں جو بطور ٹیکس گزار میرا حق بنتا ہے۔
ایف بی آر کی وضاحت
وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ پیغامات صرف متعلقہ ٹیکس گزار کو ہی بھجوائے جاتے ہیں، ایف بی آر کو قوانین کے تحت یہ اختیار حاصل ہے۔
صدر نشین نے معاملہ خزانے و محاصل کی قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا۔








