موبائل ڈیٹا اور کال پیکجز کی بڑھتی قیمتوں کا معاملہ، سینیٹ کمیٹی کا جائزہ اجلاس 9 دسمبر کو طلب
سینیٹ کمیٹی کا اجلاس طلب
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن نے موبائل ڈیٹا اور کال پیکجز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا جائزہ لینے کے لیے 9 دسمبر کو اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر پلوشہ محمد زئی خان کریں گی۔ تمام اراکین کو مکمل حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے کامیاب انٹیلی جنس آپریشن پروزیر اعلیٰ پنجاب کی مبارکباد
وزارت آئی ٹی کو ہدایت
پبلک نیوز کے مطابق کمیٹی نے وزارتِ آئی ٹی کو ہدایت کی ہے کہ وہ حالیہ ٹیرف بڑھنے کی مکمل تفصیلات اور صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے اقدامات پر بریفنگ دے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی وفد کا آج سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے ملاقات کا فیصلہ
صارفین کی شکایات اور حکومت کی کارروائی
وزیر برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام کمیٹی کو بتائیں گے کہ 'موبائل کمپنیوں نے کس بنیاد پر ڈیٹا اور کال ریٹس بڑھائے؟ صارفین کی شکایات پر حکومت نے کیا کارروائی کی؟ ایجنڈے میں سینیٹر عطا الرحمٰن کی جانب سے ضلع لکی مروت میں موبائل نیٹ ورک بند ہونے پر اٹھائے گئے سوالات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رجب بٹ کے خلاف ایف آئی آر درج نہ ہونے پر کراچی میں وکلا نے ہڑتال کا اعلان کر دیا
ICT ہاؤس ہولڈ سروے ایپ کی معلومات
انفارمیشن، کمیونیکشن ٹیکنالوجی (ICT) ہاؤس ہولڈ سروے ایپ کی معلومات کہاں جاتی ہیں؟ وزارتِ داخلہ اور اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے بریف کیا جائے گا کہ 'سروے ایپ کا ڈیٹا کہاں محفوظ ہوتا ہے؟ کس کو اس تک رسائی ہے، اس کی سکیورٹی کیسے یقینی بنائی جاتی ہے؟
یہ بھی پڑھیں: لاپتا سابق ایم این اے نثار پہنور کی گمشدگی کا مقدمہ درج کرنے کا حکم
وی پی این لائسنسنگ پر تفصیلی بریفنگ
کمیٹی نے چیئرمین پی ٹی اے سے وی پی این لائسنسنگ کے موجودہ قواعد اور کمپنیوں کے لیے آئندہ وی پی این اجازت نامے حاصل کرنے کے طریقۂ کار پر تفصیلی بریفنگ طلب کر لی ہے۔
موبائل سروسز کی ناقص کوریج
کمیٹی نے USF (Universal Service Fund) کے سی ای او سے موبائل سروسز کی ناقص کوریج پر ایک کمپلائنس رپورٹ بھی طلب کی ہے۔ یہ رپورٹ ان شکایات سے متعلق ہوگی جو ارکانِ پارلیمنٹ نے سکھر–کراچی M-9، N-5 ہائی وے، بلوچستان کے متعدد علاقوں، عمرکوٹ، ایبٹ آباد اور کشمور کے حوالے سے اٹھائی ہیں۔








