میں ادھار رکھنے والا انسان نہیں، اپنی تقریرمیں بھارتی سپریم کورٹ بار کے وکیل کے جواب میں کہا برابری کی سطح پر تعلقات آگے بڑھائے جا سکتے ہیں
مصنف کی شناخت
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 238
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کا وزیر مملکت عبد الرحمٰن کانجو کی والدہ کے انتقال پر اظہار افسوس
انٹرویو کی ابتدا
انٹرویو ختم ہونے پر سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری نے گفتگو کا آغاز کیا۔ انہوں نے لوگوں کے بھارتی دورے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ وقت کی کمی کے پیشِ نظر صرف 3 لوگ مختصر اظہار خیال کریں گے۔ دونوں طرف کچھ شاعر اور شوقیہ گلوکار بھی موجود ہیں، جنہیں سنا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: شیخوپورہ میں حاملہ خاتون شوہر کے ہاتھوں قتل، ڈی پی او سے رپورٹ طلب، درندہ صفت عناصر کو رعایت نہیں دی جائے گی: چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی
مقامی وکلاء کا خیرمقدم
سب سے پہلے انڈیا سپریم کورٹ بار کے سینئر وکیل مسٹر شیروانی کو استقبالیہ کلمات کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے پاکستانی وکلاء کی آمد کو مہکتی ہوئی ہوا کا ایک جھونکا قرار دیا اور کہا کہ عوامی ڈائیلاگ بہت اچھا رہا ہے، مگر دونوں ممالک کی حکومتیں اس کی دل سے حمایت نہیں کرتیں، جس کی وجہ سے ویزا کے حصول میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: سرجانی ٹاؤن میں گھر کی دیوار گرگئی، بچی جاں بحق، 7افراد زخمی
ثقافتی یکجہتی کا پیغام
انہوں نے تقریر کا رخ گھمایا اور کہا کہ تقسیم ہندوستان کے باوجود یہ ریجن ایک مشترکہ وراثت کا مالک ہے۔ وہ اکھنڈ بھارت کی بجائے گریٹر بھارت پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کا یہ جملہ سن کر ہمارے ماتھے ٹھنکے، تو انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا نظریہ ملکوں کے حوالے سے نہیں بلکہ ثقافتی یکجہتی کے حوالے سے ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے پاک فوج کے 4 جوان آبائی علاقوں میں سپرد خاک
تقریر کا اختتام
اس کے بعد راقم کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ میں نے تقریباً کہا کہ میں کوئی ادھار رکھنے والا انسان نہیں ہوں اور پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا کو خوش آمدید کہا۔ اگر کوئی خود کو سپرپاور سمجھتا ہے تو اس سے دوستی اور یکجہتی کے جذبات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل 10 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان
شکریہ اور فن کی محفل
کرشنامنی صدر سپریم کورٹ بار نے پاکستانی وفد کا شکریہ ادا کیا اور وفد کے ارکان کو پھولوں کے گلدستے پیش کئے۔ آخر میں شاعری اور گلوکاری کی باری تھی۔ سرفراز سید نے چند شگفتہ شعر سنائے، جبکہ بھارتی سپریم کورٹ کے وکیل مسٹر مرچنٹ نے گلستانِ سعدی کا ترجمہ انگریزی میں پیش کیا۔
یہ بھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی کی حملے بند کرنے کی اپیل، مودی حکومت سے سوال بھی پوچھ لیا
خوابوں کی محفل
ظفر علی راجا نے کرشنامنی کے لیے مخصوص تازہ قطعہ پیش کیا۔ ہماری ساتھی خاتون اْم کلثوم نے پنجابی ٹپے سنائے اور بھارتی وکیل شسمادیوی نے مشہور پنجابی گیت ’لٹّھے دی چادر اْتّے سلیٹی رنگ ماہیا‘ پیش کیا۔
محفل کا آخر
محفل میں قہقہوں کی آواز گونجی جب شسمادیوی نے ایک معنی خیز اشارہ کیا۔ یہ 75 سالہ بزرگ وکیل شیروانی صاحب کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، جس کے نتیجے میں محفل میں خوشی کا ایک طوفان برپا ہو گیا۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








