انسداد انتہا پسندی، شائستگی اور دیانت پر سیمینار
لاہور میں اہم سیمینار کا انعقاد
پنجاب سینٹر آف ایکسی لینس فار کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم (ہوم ڈیپارٹمنٹ) نے سینٹر آف سویلٹی اینڈ انٹیگریٹی ڈیپارٹمنٹ، پنجاب یونیورسٹی کے اشتراک سے پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کے الراضی ہال میں “انتہا پسندی کا خاتمہ: معاشرے میں شائستگی اور دیانت کے فروغ” کے موضوع پر ایک نہایت اہم اور مؤثر سیمینار منعقد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے پانی روکنے کے لیے کوئی سٹرکچر بنایا، تو تباہ کر دیا جائے گا: حنا پرویز بٹ کا سیمینار سے خطاب
خصوصی مہمان اور مقررین
اس موقع پر ڈاکٹر احمد جاوید قاضی، سیکرٹری داخلہ پنجاب، خصوصی مہمان تھے جبکہ اجلاس کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود، پرو وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی نے کی۔ مہمانِ خصوصی اور کلیدی مقررین میں احمر بلال صوفی (سابق وفاقی وزیر قانون)، جنرل غلام مصطفی (ریٹائرڈ) اور مولانا سید عبد الخبیر آزاد شامل تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر تہمینہ اسلم رانجھا، مسٹر منصور اعظم قاضی، ڈاکٹر شبیر احمد خان اور ڈاکٹر احمد خاور شہزاد نے بھی شرکاء سے اپنے قیمتی خیالات کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان خان کی سابقہ گرل فرینڈ سومی علی کا چونکا دینے والادعوی
سیکریٹری داخلہ کا خطاب
مہمانِ خصوصی سیکریٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں امن اور برداشت کا ماحول اس وقت قائم ہوگا جب معاشرے میں قانون کی پاسداری، ذمہ دار شہری کردار، مثبت سوچ اور باہمی احترام کو فروغ دیا جائے۔ نوجوان نسل کو یہ سمجھنا ہوگا کہ پاکستان کی بقا، اتحاد اور سلامتی سب سے زیادہ اہم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: این آئی سی وی ڈی میں مفت علاج میں رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی: وزیراعلیٰ سندھ
جامع پریزنٹیشن
ڈاکٹر خاور شہزاد نے پنجاب سینٹر آف ایکسی لینس برائے انسدادِ انتہا پسندی کی جانب سے ایک جامع پریزنٹیشن پیش کی جس میں انتہا پسندی کے اسباب، موجودگی، غلط بیانیوں اور مؤثر جوابی بیانیوں پر روشنی ڈالی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: قومی زبان اردو ہے، اگلی بار انگلش میں تقریر ہوئی تو غصہ آجائے گا، وزیراعلیٰ کے پی وائس چانسلر کی تقریر پر ناخوش
تعلیم اور اخلاقیات کی اہمیت
پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ علمی مکالمہ، شائستگی، برداشت اور دلیل ایسے اقدار ہیں جن کے فروغ میں جامعات بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی سچ، محبت، اخلاقیات اور رواداری کے فروغ کے لیے مسلسل کوشش کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سربراہ پاک فضائیہ کا سکواڈرن لیڈر عثمان یوسف شہید کے خاندان سے اظہار تعزیت
مولانا کی تعلیمات
مولانا سید عبدالخبیر آزاد نے کہا کہ امن کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے نبی کریم ﷺ کی تعلیمات پر عمل ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 1 مئی مقدمات؛ شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست پر پراسیکیوشن سے ریکارڈ طلب
جنرل غلام مصطفی کا نقطہ نظر
جنرل (ریٹائرڈ) غلام مصطفی نے کہا کہ جدید دور میں سوشل میڈیا نوجوانوں کی ذہنی تشکیل پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں پولیو کا ایک اور کیس رپورٹ
احمر بلال صوفی کی اہم تلقین
احمر بلال صوفی نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جہاں قرآنِ کریم کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عدالتوں میں مقدمات سیاسی بنیادوں پر یا انتظامیہ کے کہنے پر آگے پیچھے کیے جائیں گے تو اس سے عدالتوں کی ساکھ متاثر ہوگی،اسد قیصر
ڈاکٹر شبیر احمد خان کی باتیں
ڈاکٹر شبیر احمد خان نے کہا کہ علم و تحقیق کے فروغ کے ساتھ ساتھ کردار سازی اور اخلاقی تربیت بھی جامعات کی اہم ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مقدمات کی تفصیلات فراہمی کیس: پشاور ہائیکورٹ میں بشریٰ بی بی کی ضمانت منظور
خواتین کی شمولیت کی ضرورت
ڈاکٹر تہمینہ اسلم رانجھا نے کہا کہ کئی ممالک میں خواتین کی شمولیت نے دہشت گردی کے خاتمے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق چیف سلیکٹر اظہر خان نے کپتانی کے لیے کس کھلاڑی کو بہترین قرار دیا؟ جانیں
ذرائع ابلاغ کا کردار
منصور اعظم قاضی نے ذرائع ابلاغ کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا قومی بیانیہ تشکیل دینے کا بنیادی ذریعہ ہے۔
اختتام کی تقریب
تقریب کے اختتام پر پنجاب مرکز برائے انسدادِ انتہا پسندی کی جانب سے تمام معزز مقررین اور مہمانانِ گرامی کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں۔








