قیدی سے ملاقات حال احوال کے لیے ہوتی ہے اگر اس سے انتشار اور تلخی بڑھے تو ریاست اور حکومت سخت فیصلے کرے گی،امیر حیدر ہوتی۔
تعلقہ خاندان سے ملاقات کا حق
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا امیر حیدر ہوتی کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر عمران خان ہو یا عام قیدی، خاندان سے ملاقات کا حق قانون کے مطابق ملنا چاہیے۔ ملاقات حال احوال کے لیے ہوتی ہے، اگر اس سے انتشار اور تلخی بڑھے تو ریاست اور حکومت سخت فیصلے کرے گی۔ لگ رہا ہے کہ اس حوالے سے مزید سختیاں آنے والی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز کا قلات میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، بھارتی سرپرستی میں سرگرم 4 دہشت گرد ہلاک
جلسے میں اظہار خیال
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کو پشتونوں نے قید نہیں کیا کہ آپ پختونخوا میں اپنی ہی حکومت کے خلاف احتجاج کر کے عوام کو تکلیف دیں۔ صوابی موٹروے بند کرنے سے کس کا نقصان ہوا؟ راستے بند کرنے ہیں تو صدر، وزیراعظم کے گھر یا پورے اڈیالہ کے راستے بند کریں۔ حکومت میں ہو تو فریاد نہیں، عوام کی خدمت کرنی پڑتی ہے۔
عزم و ہمت کی داستان
امیر حیدر ہوتی نے مزید کہا ہم میں ہمت تھی، دہشتگردوں کا مقابلہ کیا۔ اے این پی کی حکومت سے پہلے آپریشنز چل رہے تھے، ہم نے مذاکرات کیے، وعدہ خلافی ہوئی تو ہم کھڑے ہوئے۔ ان میں ہمت بھی نہیں کہ دہشتگرد کو دہشتگرد کہہ سکیں۔ جو وزیراعلیٰ ہٹائے گئے، کیا خود کو بچانے کے لیے انہوں نے بھتہ نہیں دیا؟
سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر عمران خان ہو یا عام قیدی، خاندان سے ملاقات کا حق قانون کے مطابق ملنا چاہیے۔ لیکن ملاقات حال احوال کے لیے ہوتی ہے، اگر اس سے انتشار اور تلخی بڑھے تو ریاست اور حکومت سخت فیصلے کرے گی۔ لگ رہا ہے کہ اس حوالے سے مزید سختیاں آنے والی ہیں۔ pic.twitter.com/NSG6aJWRvb
— Ameer Haider Khan Hoti (@HaiderHotiANP) December 6, 2025








