تیز رفتار گاڑیوں کے انجن دن کے وقت بھی ہیڈ لائٹ اس لیے روشن رکھتے ہیں کہ دور سے نظر آ جائے اور انسانوں اور جانوروں کو خطرے کا ادراک ہو جائے
مصنف کی معلومات
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 330
یہ بھی پڑھیں: جرمنی، کام کا بوجھ کم کرنے کے لیے میل نرس نے 10 مریضوں کو غلط انجیکشن لگا کر موت کی نیند سلا دی، سزا سنادی گئی
ایکسپریس اور تیز رفتار گاڑیوں کے انجن
ایکسپریس اور تیز رفتار گاڑیوں کے انجن دن کے وقت بھی اپنی ہیڈ لائٹ اس لیے روشن رکھتے ہیں کہ دور سے ہی اُس کی چمک نظر آ جائے اور انسانوں اور جانوروں کو خطرے کا ادراک ہو جائے۔ اس کے علاوہ ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ، ایسے جنکشن جہاں پر گاڑی کا عملہ تبدیل ہونا ہوتا ہے، وہاں داخل ہوتے وقت یہ ہیڈ لائٹ خاص طور پر روشن کی جاتی ہے۔ پلیٹ فارم پر گاڑی کو آگے لے جانے والا دوسرا ڈرائیور موجود ہوتا ہے اور وہ اسے دیکھ کر اس بات کی تسلی کر لیتا ہے کہ اس انجن کی ہیڈ لائٹ صحیح طور پر کام کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم نے پاکستان کے لئے بہت سی قربانیاں دیں، ہم اس کا دفاع کرنا جانتے ہیں: آرمی چیف
حصہ نہم: مستقبل کی توقعات
باب 1: پاکستان ریلوے کا مستقبل
میری اگلی نظر ستاروں پر
پھر بھی میں تیرے سہاروں پر
یہ بھی پڑھیں: حجرہ شاہ مقیم میں پرائیویٹ افراد لوڈ شیڈنگ کے ذمہ دار نکلے، حیران کن انکشاف
پس منظر
پاکستان ریلوے کی بدقسمتی رہی ہے کہ اسے کسی نہ کسی طرح قابل عمل تو رکھا ہوا ہے لیکن حکومتوں کی عدم توجہی اور ریلوے حکام کی غفلت، نااہلیوں اور بدعنوانیوں کی بدولت ہم پچھلے 73 سال میں اس میدان میں کوئی اچھی کارکردگی نہ دکھا سکے۔
جو ریلوے لائن 1947ء میں ہمیں ورثے میں ملی تھی ہم ان میں اضافہ تو درکنار، اسے برقرار بھی نہ رکھ سکے اور اس میں سیکڑوں کلومیٹر کی کمی واقع ہو گئی۔ حتیٰ کہ فعال لائنیں بھی سکڑتی گئیں اور اس دوران بے شمار برانچ لائنیں بند ہو گئیں اور ان کی عمارتیں اور دوسرے بنیادی ڈھانچے تباہ و برباد ہو گئے یا کر دئیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: 15 فروری کے بعد پنجاب اسمبلی کے گھیراؤ اور دیگر آپشن کا اعلان کریں گے: حافظ نعیم الرحمان
موجودہ حالات
اب بھی ہماری مرکزی اور مصروف ترین پٹریوں کا ایک بہت بڑا حصہ 1861ء میں بچھائی جانے والی لائنوں پر ہی مشتمل ہے۔ اُسی زمانے کے بنے ہوئے پُل اور اسٹیشن، جو اپنی طبعی اور کارآمد عمر پوری کر چکے ہیں لیکن ابھی تک ساتھ نباہ رہے ہیں۔ بڑے علاقے میں سگنل اور ٹوکن کا صدیوں پرانا نظام چل رہا ہے۔ اس فرسودہ ڈھانچے پر مشتمل ریلوے کی وجہ سے ہماری گاڑیوں کی اوسط رفتار 65 کلومیٹر سے نہ بڑھ پائی۔ کچھ علاقوں میں، جہاں پٹریوں کی حالت کچھ بہتر ہے، وہاں بھی زیادہ سے زیادہ حد رفتار 110 کلومیٹر ہے اور دوسری انتہا یہ ہے کہ کچھ علاقوں میں تو گاڑیاں گھنٹے بھر میں 30 کلومیٹر سے زیادہ سفر طے نہیں کرپاتی ہیں، جو ایک سائیکل سوار کی رفتار سے ذرا سا بہتر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ، سری لنکا نے بنگلہ دیش کو شکست دے دی
مالی چیلنجز
ہر چند کہ گاڑیوں کے لیے نئے لوکوموٹیو وقتاً فوقتاً آتے رہتے ہیں لیکن کمزور مالی حالات کی وجہ سے یہ اتنی کم تعداد میں ہوتے ہیں کہ بمشکل ضروری گاڑیوں کی روانگی کو ہی قائم رکھا جا سکتا ہے۔ نصف صدی پرانے انجنوں کو نئے سرے سے دھو چمکا کر اور تھوڑی بہت مرمت کر کے دوبارہ کام پر بھیج دیا جاتا ہے۔ انجنوں کی اس کمی کا اثر بالخصوص مال گاڑیوں کی آمد و رفت پر پڑا ہے، جس کی وجہ سے محکمے کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بے حد متاثر ہوا۔
(جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








