پاکستان نے بھارتی وزیرِ خارجہ کے اشتعال انگیز بیان کو مسترد کردیا
پاکستان کا بھارتی وزیرِ خارجہ کے بیان پر ردعمل
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان نے بھارتی وزیرِ خارجہ امور کے اشتعال انگیز، بے بنیاد اور غیر ذمہ دارانہ بیان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت نے 19 لاکھ میٹرک ٹن چینی کنٹرول میں لےلی، 18 شوگر ملز کے مالکان کے نام ای سی ایل میں شامل
دفترِ خارجہ کا موقف
روزنامہ جنگ کے مطابق، ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور اس کے تمام ادارے، بشمول مسلح افواج، قومی سلامتی کے مضبوط ستون ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدے کی منسوخی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، اسحاق ڈار
ملک کی خودمختاری کا تحفظ
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ادارے ملک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہیں۔ مئی 2025 میں پاکستان کی مسلح افواج نے پیشہ ورانہ مہارت، عزم اور ذمہ داری کے ساتھ بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دیا، جسے کوئی بھی پروپیگنڈا جھٹلا نہیں سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد یونیورسٹی سے فارغ التحصیل دہشتگرد گرفتار کرلیا: سی ٹی ڈی بلوچستان
بھارتی پروپیگنڈا مہم کی مذمت
دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارتی قیادت کی جانب سے پاکستان کے ریاستی اداروں اور قیادت کو بدنام کرنے کی کوششیں ایک منظم اور مذموم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد خطے میں بھارت کے عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات سے توجہ ہٹانا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ، جنگ کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلے کرکٹ مقابلے کا ٹاس ہو گیا
دہشت گردی پر توجہ ہٹانے کی کوشش
ترجمان نے کہا کہ بھارت پاکستان میں اپنی ریاستی سرپرستی میں جاری دہشت گردی سے بھی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے اشتعال انگیز بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت کو خطے میں امن، ہم آہنگی اور استحکام کی کوئی پروا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نوازشریف مذاکرات کیلئے 9مئی پر معافی مانگنے کا مطالبہ کریں گے: جاوید لطیف
بھارتی قیادت کی تحقیقات کا مطالبہ
انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی قیادت کو پاکستان کی مسلح افواج پر بے بنیاد تبصرے کے بجائے فاشسٹ اور انتہاپسندانہ ہندوتوا نظریے کی تحقیقات کرنی چاہئیں۔ ہندوتوا نظریہ نے بھارت میں ہجوم کے ہاتھوں قتل، ماورائے عدالت کارروائیوں، عبادت گاہوں اور املاک کی مسماری کو جنم دیا۔
پاکستان کا موقف
ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور اس کی قیادت مذہب کے نام پر پروان چڑھنے والی دہشت سے یرغمال بن چکے ہیں۔ پاکستان بقائے باہمی، مکالمے اور سفارت کاری پر یقین رکھتا ہے، اور قومی مفادات اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے متحد، مضبوط اور پُرعزم ہے۔








