لوگ مساجد پر خرچ کرتے ہیں مگر اپنے گھروں میں کھانا میسر نہیں، سابق شامی صدر بشارالاسد کی متنازعہ آڈیو ویڈیوز لیک
شامی سیاست میں تہلکہ خیز موڑ
دمشق/دبئی (ڈیلی پاکستان آن لائن) شامی سیاست میں ایک تہلکہ خیز موڑ اُس وقت آیا جب العربیہ ٹی وی نے سابق صدر بشارالاسد اور ان کی سابق مشیر لُنا الشبل کی نجی گفتگوؤں کی ویڈیو ریکارڈنگز حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔ ان ریکارڈنگز میں بشارالاسد کو کئی حساس اور تضحیک آمیز تبصرے کرتے سنا اور دیکھا جا سکتا ہے، جنہوں نے شامی عوام اور عسکری حلقوں میں شدید ردِعمل کو جنم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی: مشتعل افراد نے شہری کو ٹکر مار کر فرار ہونیوالے واٹر ٹینکر کو آگ لگا دی
نجی گفتگو کی تفصیلات
یہ ویڈیوز اُس دوران ریکارڈ ہوئیں جب بشارالاسد اپنے قریبی ساتھی اور لُنا الشبل کے معاون امجد عیسیٰ کے ساتھ گاڑی میں موجود تھے۔ فوٹیج میں دونوں کے درمیان غیر رسمی گفتگو کے متعدد حصے شامل ہیں جو پہلی بار کسی عوامی پلیٹ فارم پر سامنے آئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور افغان طالبان مذاکرات کا ترکیہ میں آج دوسرا دور، سرحدی گزرگاہیں بدستور بند
متنازعہ بیانات
لیک ہونے والی ایک ریکارڈنگ میں سابق صدر ملک کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے سخت جملہ ادا کرتے ہیں "شرمندگی نہیں، گھن آتی ہے۔"
ایک اور کلپ میں اُنہیں شامی عوام پر تنقید کرتے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں وہ کہتے ہیں کہ لوگ مساجد پر خرچ کرتے ہیں مگر اپنے گھروں میں کھانا میسر نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مری میں شدید برفباری،5 ہزار گاڑیوں کو بحفاظت نکالنے کیلیے ریسکیو آپریشن شروع، انتظامیہ ہائی الرٹ
لُنا الشبل کا سوال
لُنا الشبل کے ایک سوال کے جواب میں، جس میں انہوں نے پوچھا کہ سڑکوں پر اپنے بڑے بڑے پوسٹرز دیکھ کر ان کے ذہن میں کیا آتا ہے، بشارالاسد مسکراتے ہوئے جواب دیتے ہیں کہ انہیں “کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا۔”
ویڈیوز کا افشا
العربیہ کے نمائندے محمود الواوی کے مطابق یہ ویڈیوز اور ذاتی دستاویزات صدارتی محل کے اندر ایک لفافے میں "انتہائی خفیہ" کے لیبل کے ساتھ محفوظ تھیں۔ ان کا باہر آنا نہ صرف سیاسی سنسنی کا باعث بنا بلکہ اس بات پر بھی سوال اٹھا رہا ہے کہ شامی صدر کے انتہائی محدود دائرے تک رسائی رکھنے والا کون شخص یہ مواد لیک کر گیا۔








