چاہتے ہیں جمہوری روایات چلیں اور کوئی ریڈ لائن کراس نہ کرے، شرجیل انعام میمن
شرجیل انعام میمن کا بیان
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں جمہوری روایات چلیں، کوئی ریڈ لائن کراس نہ کرے۔
یہ بھی پڑھیں: کوہستان کرپشن اسکینڈل، مرکزی ملزم قیصر اقبال کے ڈرائیور نے پلی بارگین کے تحت ساڑھے 4 ارب روپے ادا کردیے۔
ای ٹینڈرنگ کا فیصلہ
سندھ کے تمام محکمہ جات میں ای ٹینڈرنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سندھ حکومت نے ایک اہم فیصلہ کیا ہے، یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے اسرائیل کے خلاف کارروائی کو “عملیات وعدہ صادق 3” کا نام دے دیا، اس کا کیا مطلب ہے؟
پیپلزپارٹی کی قربانیاں
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے ملک میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں، پیپلزپارٹی نے کبھی ملک اور اداروں کے خلاف سازش نہیں کی۔ بانی کی بہنیں بھارتی میڈیا کے ذریعے سازشوں کا حصہ بن رہی ہیں، بھارت تحریک انصاف کو فنڈنگ بھی کرتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات میں عیدالاضحیٰ 6 جون کو ہونے کا امکان
جمہوریت کا تحفظ
کسی بھی جماعت یا شخص کو ریڈ لائن کراس کرنے کی اجازت نہیں، بانی پی ٹی آئی کی پارٹی نے مارشل لا نہیں دیکھے، پیپلزپارٹی کی قیادت نے جمہوریت کے لیے جانوں کے نذرانے دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی نیشنل سیکیورٹی کونسل نے شہریوں کو تہران چھوڑنے کی ہدایت کر دی
ثقافتی روز
شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ کل کراچی میں پیپلزبس کے شیشے توڑے گئے، کلچر ڈے منانا سب کا حق ہے لیکن قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔ کلچر ڈے ضرور منائیں مگر کسی کو تکلیف نہ دیں۔
یہ بھی پڑھیں: دیہات میں ایسے اسکول بکثرت نظر آتے ہیں جن کے گرد چاردیواری بھی نہیں جس سے طلباء، طالبات اور اساتذہ عدم تحفظ کا شکار نظر آتے ہیں۔
سازشوں کی مذمت
پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ جمہوری عمل چلتا رہے، سب سے زیادہ قربانی دے کر بھی پیپلزپارٹی نے اداروں کے خلاف بات نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیں: ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ 67 ہزار عازمین حج سے محروم رہیں گے، ایسا کیوں ہوا ؟ اہم تفصیلات جانیے
معصوم بچوں کا المیہ
سینئر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ جیالوں نے پھانسیاں، کوڑے، اور سخت سے سخت سزائیں برداشت کیں۔ بانی پی ٹی آئی کو درست کیسزمیں سزائیں ہوئیں، بانی پی ٹی آئی کی سازشوں کی مذمت کرتے ہیں۔ پنجاب میں معصوم بچے کا گٹر میں گرنا قابلِ افسوس ہے، کراچی میں بھی واقعے پر دل سے افسوس ہوا۔
میڈیا تنقید
کراچی میں واقعہ ہوتا ہے تو زیادہ ہائی لائٹ کیا جاتا ہے جبکہ ایک جج صاحب کے بیٹے کی رہائی پر میڈیا میں زیادہ بات نہیں ہوئی۔








