پاکستان کو پانی کے شدید بحران کا سامنا ہے، ذخائر میں تیزی سے کمی جاری ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک
ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایشیائی ترقیاتی بینک نے ایشین واٹر ڈیویلپمنٹ آؤٹ لک رپورٹ 2025 جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پانی کے شدید بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ذخائر میں تیزی سے کمی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے 8 فروری کو نئے فساد کا پروگرام تیار کیا ہے: عظمیٰ بخاری کا دعویٰ
آبادی کی پانی کی کمی
سما ٹی وی کے مطابق، رپورٹ کے انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کی 80 فیصد سے زیادہ آبادی پینے کے صاف پانی سے محروم ہے۔ پاکستان میں فی کس پانی کی دستیابی 3500 سے کم ہوکر 1100 مکعب میٹر رہ گئی ہے۔ زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال سے زہریلا آرسینک پھیل رہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی، آبادی، اور ناقص انتظامات کی وجہ سے پانی کا بحران بڑھ رہا ہے۔ زرعی شعبہ سب سے زیادہ پانی ضائع کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آج ہم ترمیم کرکے کیک اور باقی سب دھول کھائیں گے، سینیٹر فیصل واوڈا
پانی کی سیکیورٹی کی اہمیت
رپورٹ کے مطابق، واٹر سیکیورٹی کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں ہے۔ پاکستان میں پالیسیاں مضبوط ہیں مگر عمل درآمد کمزور اور سست ہے۔ مالی وسائل کی شدید کمی، واٹر سیکٹر میں اصلاحات اور سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محمد رضوان سے میلبرن رینیگیڈزمینٹمنٹ نے معافی مانگ لی
مالی ضروریات اور چیلنجز
رپورٹ میں اگلی دہائی کے دوران 10 سے 12 ٹریلین روپے کی ضرورت بیان کی گئی ہے اور موجودہ سرمایہ ناکافی قرار دی گئی ہے۔ پاکستان میں 2022 کے سیلاب نے لاکھوں افراد کو بے گھر کیا، جبکہ سیلاب اور خشک سالی کے خطرات جاری ہیں۔ پاکستان کو ایس ڈی جیز کے حصول کے لیے سالانہ 12 ارب ڈالر کی ضرورت ہے، اور ناقص پانی و صفائی سے سالانہ 2.2 ارب ڈالر نقصان کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بورڈ آف پیس میں طاقت کا منبع اور غزہ کا انچارج کون ہو گا؟، امریکی اخبار نے بتا دیا
دیہی اور شہری پانی کی حالت
ایشین ڈویلپمنٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں پانی کی رسائی کم جبکہ آلودگی اور نگرانی کے مسائل برقرار ہیں۔ شہری پانی کا انفرا اسٹرکچر کمزور ہے اور گندہ پانی بغیر ٹریٹمنٹ خارج ہو رہا ہے۔ صنعتی شعبہ تقریبا مکمل طور پر زیر زمین پانی پر انحصار کرتا ہے، اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ناکافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق صدر پاکستان عارف علوی کے خلاف اندراج مقدمہ کی درخواست خارج
پانی کی سیکیورٹی کا اسکور
پاکستان کا پانی سیکیورٹی اسکور 2013 سے 2025 میں 6.4 پوائنٹس بہتر ہوا ہے۔ پانی کے شعبے میں تکنیکی صلاحیت اور کوآرڈینیشن کمزور ہے۔ بڑے منصوبوں پر سرمایہ کاری، اصلاحات پر کم توجہ دی گئی ہے۔ برابری اور سماجی شمولیت کا عمل بھی سست ہے۔
براعظم ایشیا کی صورتحال
براعظم ایشیا میں واٹر سیکیورٹی کے لئے 250 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔ ماحولیاتی زوال اور فنڈنگ کی کمی مستقبل میں خطرات بڑھا رہی ہے۔ براعظم ایشیا دنیا کے 41 فیصد سیلابوں کا مرکز ہے۔ پانی اور صفائی کے منصوبوں پر موجودہ اخراجات ضرورت کا 40 فیصد ہیں۔ سالانہ 150 ارب ڈالر کا فنڈنگ گیپ واٹر سیکیورٹی کے لیے خطرہ ہے، جبکہ 2040 تک خطے میں پانی کے نظام کے لئے 4 ٹریلین ڈالر کی ضرورت ہوگی۔








