جب گورنر راج لگایا جائے گا تو اس کا جواز بھی ہوگا: عطا تارڑ
گورنر راج کا جواز
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر عطا اللّٰہ تارڑ کا کہنا ہے کہ جب گورنر راج لگایا جائے گا تو اس کا جواز بھی ہوگا۔ گورنر راج کی گنجائش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب گورننس کی کمی ہو۔
یہ بھی پڑھیں: سعود نے مجھ سے مجھ سے جہیز نہیں لیا تھا اور گھر کے فرینچر کا انتظام بھی خود کیا ، ادا کارہ جویریہ سعود کا انکشاف
حکومت کی کارکردگی
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مارننگ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گورنر راج کی گنجائش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب حکومت اپنے کام نہ کر رہی ہو۔ عطا اللّٰہ تارڑ کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت امن وامان، انسداد دہشت گردی میں ناکام اور گورننس ایشو ہوں تو گورنر راج آپشن ہے۔ لوگوں نے فوج مخالف بیانیہ کو مسترد کردیا ہے، لوگ پشاور جلسے میں نہیں گئے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی برانڈ کی نئی چیلنجز کی منزل، جنوبی افریقہ
ٹرانسپیرنسی اور میرٹ کی بہتری
انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں سفارش بالکل ختم کردی گئی ہے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے سروے میں 66 فیصد لوگوں نے کہا کہ کسی کام کے لیے رشوت نہیں دی۔ ملک میں ٹرانسپیرنسی اور میرٹ کو ترجیح دی گئی ہے، ملک کے ڈیفالٹ کی شرطیں لگتی تھیں، اب ہم استحکام سے ترقی کی طرف جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں جائیداد کے تنازعے پر چھوٹے بھائی نے بڑے بھائی کو قتل کردیا
معاشی استحکام کے اقدامات
ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے تحت ریفارم اور فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنے سے معاشی استحکام آیا ہے، آئی ایم ایف نے ہمارے ریفارم سٹریکچر کی تعریف کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بارشوں اور سیلاب سے 2 ماہ کے دوران 831 افراد جاں بحق، خیبرپختونخوا میں 480، پنجاب میں 191 ہلاکتیں
چینی کی سپلائی اور قیمتیں
وزیر اطلاعات نے کہا کہ 2019ء میں پی ٹی آئی دور میں رپورٹ آئی کہ چینی کم ہے، ایکسپورٹ نہ کی جائے، ہم نے جب چینی ایکسپورٹ کی تو وافر مقدار میں تھی، آئی ایف ایم رپورٹ میں چینی کے حوالے سے پی ٹی آئی دور کا ذکر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چین اور ویتنام کے تعلقات پر صدر شی جن پنگ کی خصوصی کہانی
ڈی ریگولیشن کی طرف پیش رفت
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت ڈی ریگولیشن کی طرف جا رہی ہے، وزیراعظم نے چینی کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کریک ڈاؤن کروایا، اب ملز سے نکلنے والی چینی کی ایک بوری پر کیو آر کوڈ درج ہے، اسے ٹریس کیا جاسکتا ہے۔
چینی کی قیمتوں میں استحکام
عطا اللّٰہ تارڑ نے کہا کہ چینی کی ذخیرہ اندوزی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، چینی کی قیمتیں کم ہوئی ہیں اور چینی کی قیمتوں میں استحکام بھی آیا ہے۔








