وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت پنجاب میں زرعی ترقی کیلئے اعلیٰ سطح کا اجلاس، چین کے ساتھ باہمی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق
چین کے ساتھ زراعت میں تعاون
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب میں زراعت میں ترقی، جدت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے چین کے ساتھ 6 ایم او یو ز پر دستخط کیے گئے۔ زراعت میں جدید ٹیکنالوجی اور زرعی مشینری میں تعاون کیلئے چین کیساتھ دو B2B ایم او یوز پر دستخط ہوئے۔ پنجاب میں ایگری تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں اشتراک کار کیلئے چین کیساتھ 3 ایم او یوز سائن کیے گئے۔ کسانوں کو اعلیٰ معیار کے بیج کی دستیابی کیلئے چین کیساتھ 1 ایم او یو پر دستخط ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: عافیہ صدیقی کے معاملے پر امریکہ جانے والے وفد کے اخراجات حکومت برداشت کریگی،ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کر دیا
اعلیٰ سطح کا اجلاس اور زرعی ترقی
وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت پنجاب میں زرعی ترقی میں پیش رفت کیلئے اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب حکومت کا زرعی ترقی کو مزید فروغ دینے کیلئے چین کیساتھ باہمی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس میں گندم کاشت، کسان کارڈ اور زرعی مشینری کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں کھاد کی مسلسل فراہمی کا نیا ریکارڈ قائم ہوا، کھاد مہنگی ہوئی، نہ غائب، نہ بلیک ہوئی اور نہ ہی کمی ہوئی۔ فروری 2024 سے اب تک نہ ڈی اے پی اور یوریا کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہی فراہمی کمی ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: کیڈٹ کالج جعفرآباد میں یومِ والدین کی شاندار تقریب، آئی جی ایف سی کی شرکت
گندم کی کامیاب کاشت
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ پنجاب نے کم وقت میں گندم بوائی کا ٹارگٹ پورا کرلیا ہے اور پنجاب کو تمام صوبوں میں سب سے آگے نکلنے کا اعزاز حاصل ہوچکاہے۔ پنجاب نے تمام صوبوں سے زیادہ 16.5 ملین ایکڑ پر ریکارڈ گندم کاشت کی۔ پنجاب میں گندم کے بیج کی فروخت میں پچھلے سال کے مقابلے 27 فیصد اضافہ ریکارڈ قائم کیا۔ پنجاب میں یوریا کی فروخت میں پچھلے سال کے مقابلے 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے افغان شہریوں کی امیگریشن کی تمام درخواستیں غیر معینہ مدت کے لیے روک دیں
کسانوں کے لیے سہولیات
اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ وزیر اعلی مریم نواز کے حکم پر پنجاب سیڈ کارپوریشن کے ہر تصدیق شدہ گندم بیج پر 500 روپے فی بیگ کی سبسڈی دی گئی۔ پنجاب کے کسانوں کیلئے آسانی اور سہولت کا نیا باب، پہلی بار پنجاب کی تاریخ میں 8 لاکھ کسان کارڈ جاری ہوئے، 250 ارب کے قرضے جاری ہوئے۔ کاشتکاروں نے بیج، کھاد اور پیسٹی سائیڈ کی خریداری کیلئے 160 ارب روپے کے قرضے استعمال کیے۔ کسان کارڈ کے ذریعے پنجاب میں 96 فیصد قرض کی واپسی کا ریکارڈ قائم ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ موسمیات نے آج رات سے ۱۹ ستمبر تک مزید بارشوں کی پیش گوئی کردی
نئی مشینری اور تکنیکی ترقی
پنجاب میں 66 ارب روپے کی میکنائزیشن کا پیداوار کے فرق کو ختم کرنے میں بڑا کردار ہے۔ 2 سال میں 25 ارب روپے کے 30,000 گرین ٹریکٹر سے کسانوں کو جدید سہولتیں فراہم کی گئیں۔ 10 ارب روپے کے 10,000 سپر سیڈرز کسانوں کو فراہم کیے گئے۔ 6 ارب روپے کے 20 ہزار فارم لیول آلات، گرین ٹریکٹر فیز 2 کے 9,500 میں سے 8,554 کسانوں کو الاٹمنٹ لیٹر مل گئے، جبکہ 90 فیصد لیٹرز جاری ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں معمولی جھگڑے پر 55 سالہ شخص کو قتل کرنے والا ملزم گرفتار
ہائی ٹیک مشینری کی فراہمی
وزیراعلیٰ پنجاب کے ہائی ٹیک مشینری فنانسنگ پروگرام کے تحت 6,077 کسانوں نے رجسٹریشن کروائی۔ چیف منسٹر ہائی ٹیک مشینری فنانسنگ پروگرام کے تحت 3,536 کسانوں نے مکمل درخواستیں جمع کروائیں۔ 2,438 درخواستیں بینک آف پنجاب کو کریڈٹ فیصلہ کے لیے بھیجی گئیں۔ ہائی ٹیک مشینری پروگرام میں 1,316 کسانوں نے ہارویسٹر کیلئے درخواستیں جمع کروائیں۔
فارمز مشینری پروگرام کی کامیابی
وزیراعلیٰ پنجاب فارمز مشینری پروگرام کے تحت 5,000 سپر سیڈرز کسانوں کو فراہم کیے گئے۔ سپر سیڈرز کے ذریعے 12 لاکھ ایکڑ گندم کی کاشت مکمل ہوئی، 5,000 کسان پی-کاپ پروگرام کے تحت منتخب ہوئے۔ پنجاب میں ہر کھیت تک سہولت کی رسائی کے لیے 3 سال میں 20,000 جدید فارم لیول ایمپلیمنٹس کسانوں کو فراہم کیے جائیں گے۔ 38 اقسام کے آلات پر 68 فیصد سبسڈی فراہم کی جائے گی۔








