احتسابی اداروں اور سیاست میں آنے والے پیسے سے متعلق عوام کیا رائے رکھتے ہیں؟ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان این سی پی ایس 2025 کے مزید اہم نکات سامنے آ گئے۔
احتسابی اداروں اور سیاست میں پیسہ
لاہور (طیبہ بخاری سے) احتسابی اداروں اور سیاست میں آنے والے پیسے سے متعلق عوام کی رائے کیا ہے؟ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے این سی پی ایس 2025 کے مزید اہم نکات پیش کردیئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ریحام خان کی ٹپہ گانے کی ویڈیو وائرل
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کا نیا رپورٹ
تفصیلات کے مطابق، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے NCPS 2025 جاری کر دیا ہے جس میں کرپشن کے تاثر میں واضح کمی اور شفافیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (TIP)، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کا قومی چیپٹر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت خصوصی اجلاس، سیلاب متاثرین کے گھروں کی بحالی ’’اپنی چھت، اپنا گھر پروگرام‘‘ میں شامل کرنے کا فیصلہ
رپورٹ کی خود مختاری
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (TIP) کی بدعنوانی سے متعلق جاری ہونے والی رپورٹ کا ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل (TI) کی طرف سے جاری ہونے والی رپورٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ ہی یہ اس پر اثر انداز ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انڈر 16 چیمپئن شپ، ایس اے اکیڈمی نے جیت لی، ضیاء ڈوگر نے انعامات تقسیم کیے
رشوت کے تجربات کا جائزہ
این سی پی ایس 2025 کے مطابق، 66 فیصد پاکستانیوں کو پچھلے 12 ماہ میں کسی سرکاری سروس کے لیے رشوت دینے کی نوبت نہیں آئی۔ ہر 3 میں سے 2 شہری روزمرہ سرکاری خدمات میں بغیر رشوت گزارہ کر رہے ہیں۔ تقریباً 60 فیصد شہریوں کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے اور FATF گرے لسٹ سے نکلنے کے بعد معیشت کو کسی حد تک سنبھالا ملا ہے۔ 43 فیصد پاکستانی اپنی خریداری کی طاقت میں اضافہ محسوس کر رہے ہیں، جو معاشی سمت میں بہتری کی علامت ہے۔ صرف ایک تہائی (34 فیصد) شہریوں نے پچھلے سال رشوت کا تجربہ رپورٹ کیا، جبکہ دو تہائی نے ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اپنی تیز رفتاری اور کم خرچ کی بناء پر ریل گاڑی کا سفر فوراً ہی بہت مقبول ہو گیا، اس وقت کراچی سے کوٹری تک کا رعایتی کرایہ محض 2 آنے رکھا گیا۔
عوامی حمایت برائے احتساب
این سی پی ایس 2025 کے مطابق، 42 فیصد شہری مضبوط وہسل بلوور قانون کے ذریعے بدعنوانی رپورٹ کرنے کے لیے تیار ہیں، یعنی عوام نظام کو صاف کرنے میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ نصف سے زائد عوام (51 فیصد) کا کہنا ہے کہ ٹیکس میں چھوٹ لینے والے فلاحی اداروں کو عوام سے فیس نہیں لینی چاہیے۔ 53 فیصد پاکستانی چاہتے ہیں کہ ٹیکس فری این جی اوز اور اسپتال اپنے ڈونرز اور عطیات کی تفصیل اپنی ویب سائٹس پر ظاہر کریں۔
زور دار عوامی مطالبات
این سی پی ایس 2025 کے مطابق، 78 فیصد شہری احتسابی اداروں کے خود احتسابی کے حق میں ہیں، یعنی عوام طاقتور اداروں کو بھی قانون کے دائرے میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ 83 فیصد شہری کاروباری سرمایہ کے ذریعے سیاست میں آنے والے پیسے پر مکمل پابندی یا سخت ضوابط لگانے کے خواہاں ہیں۔








