چین پاکستان میں ”ون بیلٹ ون روڈ“ منصوبے کے تحت صنعتی یونٹ بھی لگائے گا جہاں سے تیار شدہ مصنوعات دوسرے ملکوں کو برآمد کی جائیں گی
مصنف کی معلومات
مصنف: محمد سعید جاوید
قسط: 333
یہ بھی پڑھیں: غزہ کی صورتحال ’ناقابل برداشت‘ ہوگئی: جرمنی کا پہلی بار اسرائیل کیخلاف اقدامات کا عندیہ
منصوبہ کا جائزہ
بہرحال کافی تگ و دو کے بعد چین اس منصوبے کو مکمل کرنے پر رضا مند ہو گیا جس کے تحت اسے کراچی سے پشاور تک سارے ریلوے نظام کی تجدید نو، نئی پٹریوں کی تعمیر اور جدید ترین مواصلاتی نظام کے علاوہ راستے میں آنے والے تمام چھوٹے بڑے پلوں کی تعمیر کا کام مکمل کرنا تھا تاکہ صدیوں پرانے اس فرسودہ نظام کو تبدیل کر کے اس کی جگہ جدید اور مؤثر منصوبہ لانا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ہزاروں افغان شہریوں کو میٹرک کے جعلی سرٹیفکیٹ جاری کیے جانے کا انکشاف، کتنی رقم وصول کی گئی؟ جان کر آپ حیران رہ جائیں
مالی تعاون
یہ بھی طے پایا کہ اس پر خرچ ہونے والی کثیر رقم جو کوئی 8 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہو گی، وہ بھی چین کم شرح سود پر بطور قرض پاکستان کو دے گا اور اس کی واپسی بھی لمبے عرصے میں آسان قسطوں میں ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ حملے
CPEC کا ML منصوبہ
غرض معاہدے پر دستخط ہو گئے اور اسے CPEC کا ML یعنی مین لائن نمبر 1 کا منصوبہ کہا جانے لگا۔ اس میں کراچی سے پشاور تک ایک نئی اور دو رویہ ریلوے لائن کے علاوہ، ٹیکسلا سے حویلیاں تک دو رویہ نئی پٹری بچھانے کی منظوری بھی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں رواں سال کی سب سے بڑی ڈکیتی کی واردات، ڈاکو 200 تولہ سونا اور ایک لاکھ امریکی ڈالر لوٹ کر فرار
ڈرائی پورٹ اور کنٹینر ٹرمینل
اس کے ساتھ ساتھ حویلیاں کے مقام پر ایک بہت بڑی ڈرائی پورٹ قائم کر کے وہاں ایک بڑے کنٹینر ٹرمینل کی تعمیر بھی کرنا تھی۔ اسی منصوبے میں پاکستان ریلوے اکیڈمی کو جدید خطوط پر استوار کر کے بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانا بھی شامل تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نوید قمر نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی صدارت سنبھال لی،سیکرٹری کابینہ کو ایک ماہ میں توشہ خانہ ریکارڈ کی فائنل رپورٹ دینے کی ہدایت
مزید منصوبے
اسی گفت و شنید کے دوران پاکستان کی طرف سے کوشش کی گئی کہ چین، ایم ایل-2، ایم ایل-3 اور ایم ایل-4 کو بھی ایسے ہی کچھ منصوبوں میں شامل کر لے، لیکن چین نے وقتی طور پر معذرت کر لی اور اپنی دلچسپی صرف ایم ایل پر ہی مرکوز رکھی۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کی رہائی کسی ڈیل کا نتیجہ نہیں، مخالفین بے بنیاد افواہیں پھیلا رہے ہیں: بیرسٹرسیف
آنے والے منصوبوں کی تفصیلات
اور اب جبکہ آپ کو ایم ایل منصوبے کے بارے میں بنیادی نکات کا علم ہو گیا ہے تو اس کی تفصیل میں جاتے ہیں اور اس کے علاوہ ریلوے کے آنے والے کچھ نئے منصوبوں کے بارے میں بھی کھوج لگاتے ہیں، جو پاکستان ریلوے اپنے وسائل سے مکمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کے لیے ایک کنسورشیم کی تجویز ہے جس میں پاکستان کو بھی دعوت دی جاسکتی ہے، روئٹرز کا دعویٰ
CPEC کے مرحلوں کی منصوبہ بندی
CPEC کے منصوبوں کو کئی مرحلوں میں بانٹ دیا گیا ہے جس میں ہر قسم کی نقل و حمل کے مواصلاتی رابطوں کے علاوہ مختلف اکنامک زون وغیرہ بھی بنانے مقصود ہیں، جو مجوزہ موٹر ویز اور ریلوے لائن کے آس پاس ہی قائم کئے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم کی رکن قومی اسمبلی رعنا انصار کا بیٹا ٹریفک حادثے میں جاں بحق
چین کا کردار
چین پاکستان میں اپنے منصوبے "ون بیلٹ ون روڈ" کے تحت کاروباری اور صنعتی یونٹ بھی لگائے گا جہاں سے تیار شدہ مصنوعات چین اور دوسرے ملکوں کو برآمد کی جائیں گی۔ ہم بہرحال اپنی معلومات کو اس کتاب کے موضوع کے مطابق ریلوے کے منصوبوں تک ہی محدود رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: جنوبی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنیوالے پاک فوج کے 4 جوانوں کے بارے میں اہم معلومات سامنے آ گئیں
گوادر کی بندر گاہ کا منصوبہ
CPEC کے اس منصوبے کے مطابق گوادر کی بندر گاہ سے ریل کو ایک طرف تو پاکستان کے اندر اور چین تک لے جانا مقصود ہے، پھر اس کے بعد اسی لائن کو افغانستان سے ہوتے ہوئے وسطی ایشیاء کے ممالک سے رابطہ کرنا بھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے اپنی کرنسی کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا
ایران سے یورپ تک کا ریلوے نظام
دوسری طرف ایران کی طرف سے بھی ایک مربوط ریلوے نظام کے ذریعے ترکی سے ہوتے ہوئے پورے یورپ اور روس وغیرہ کی طرف نکالنے کے لیے بھی ریل کی راہداری اسی منصوبے میں شامل ہے۔ لیکن ان سب منصوبوں پر فوری طور پر عمل ہونا تو ممکن نہیں۔
نوٹ
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








