پی ٹی آئی سے بات چیت میں مکمل ڈیڈلاک ہے: رانا ثنا اللّٰہ
رانا ثناء اللہ کی پی ٹی آئی کو مشورہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللّٰہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو بطور جماعت اور اپنے بانی کو 9 مئی اور اپنے بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کرکے معذرت کرنی چاہیے۔ ایسی صورت میں شاید کوئی راستہ کھلے۔
یہ بھی پڑھیں: ہم واٹر کینن سے گھبرانے والے نہیں، اپنے بھائی کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتے: علیمہ خان
ڈیڈ لاک کی صورتحال
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی اپنے بیانات پر قائم رہتے ہیں تو ڈیڈ لاک برقرار رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کا مشترکہ پارلیمانی پارٹی اجلاس طلب، آئینی ترمیم پر بریفنگ متوقع
ماضی کی بات چیت کی کوششیں
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ ماضی میں پی ٹی آئی سے بات چیت کی کوشش کی گئی، تاہم بانی پی ٹی آئی کے بیانات کی وجہ سے ڈیڈ لاک کی صورت حال پیدا ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور قلندرز نے گلوبل سپر لیگ کے لیے ڈیرن گوف کو ہیڈ کوچ مقرر کردیا
احتجاج کی حکمت عملی
انہوں نے کہا کہ اگر یہ مستقل معمول بنا لیں گے کہ ہر منگل اور جمعرات کو اڈیالہ کے قریب احتجاج کریں گے تو حکومت بانی پی ٹی آئی کی کسی جیل منتقلی کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: رونالڈو اپنے ایک مداح کی تلاش میں: ‘یہ میرا جڑواں بھائی ہے، اس کے بدلے مجھ سے ملاقات کر لیں’
اداروں پر تنقید
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے بطور جماعت اور بانی پی ٹی آئی نے ادارے پر براہ راست تنقید کی، اور ادارے کے خلاف بات چیت کو لوگ پسند نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر مملکت بلال اظہر کیانی کی ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات
بھارت کے ساتھ تعلقات
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ بھارت ہمارا دشمن ملک ہے، بانی پی ٹی آئی نے پروپیگنڈے میں اس کا ساتھ دیا، پی ٹی آئی سے گفتگو کا کوئی طریقہ کار نہیں اپنایا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اسرائیل جنگ، سعودی عرب سے پروازوں کی اوور فلائنگ دگنی ہوگئی
بلاول بھٹو کی سیاسی سوچ
رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کی سوچ ہمیشہ سیاسی اور جمہوری حوالے سے واضح رہی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ افہام و تفہیم کی بات کی ہے۔
سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت ہونی چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر خود کہہ چکے ہیں کہ سیاسی جماعتیں آپس میں بات کریں۔








