پی ٹی آئی سے بات چیت میں مکمل ڈیڈلاک ہے: رانا ثنا اللّٰہ
رانا ثناء اللہ کی پی ٹی آئی کو مشورہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللّٰہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو بطور جماعت اور اپنے بانی کو 9 مئی اور اپنے بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کرکے معذرت کرنی چاہیے۔ ایسی صورت میں شاید کوئی راستہ کھلے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور: 3 بھائی دریائے راوی میں ڈوب کر جاں بحق
ڈیڈ لاک کی صورتحال
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی اپنے بیانات پر قائم رہتے ہیں تو ڈیڈ لاک برقرار رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: 17 سالہ فٹبالر لامین یامل نے ایئر ہوسٹس کے ساتھ تعلقات کی خبروں پر خاموشی توڑ دی
ماضی کی بات چیت کی کوششیں
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ ماضی میں پی ٹی آئی سے بات چیت کی کوشش کی گئی، تاہم بانی پی ٹی آئی کے بیانات کی وجہ سے ڈیڈ لاک کی صورت حال پیدا ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب ایسڈ کنٹرول بل 2025: متفقہ طور پر منظور، خطرناک کیمیکلز کی خرید و فروخت، ذخیرہ اور تقسیم پر سخت ضوابط عائد
احتجاج کی حکمت عملی
انہوں نے کہا کہ اگر یہ مستقل معمول بنا لیں گے کہ ہر منگل اور جمعرات کو اڈیالہ کے قریب احتجاج کریں گے تو حکومت بانی پی ٹی آئی کی کسی جیل منتقلی کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اہم خبر ۔۔۔پنجاب بھر میں ہوائی اڈوں اور ائیربیسز کے گرد 15 کلومیٹر تک دفعہ 144 نافذ
اداروں پر تنقید
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے بطور جماعت اور بانی پی ٹی آئی نے ادارے پر براہ راست تنقید کی، اور ادارے کے خلاف بات چیت کو لوگ پسند نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: جے یو آئی کا 8 فروری 2024 کے متنازع اور بدترین دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف یومِ سیاہ منانے کا فیصلہ
بھارت کے ساتھ تعلقات
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ بھارت ہمارا دشمن ملک ہے، بانی پی ٹی آئی نے پروپیگنڈے میں اس کا ساتھ دیا، پی ٹی آئی سے گفتگو کا کوئی طریقہ کار نہیں اپنایا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: مختلف علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور برفباری کی پیشگوئی
بلاول بھٹو کی سیاسی سوچ
رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کی سوچ ہمیشہ سیاسی اور جمہوری حوالے سے واضح رہی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ افہام و تفہیم کی بات کی ہے۔
سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت ہونی چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر خود کہہ چکے ہیں کہ سیاسی جماعتیں آپس میں بات کریں۔








