پی ٹی آئی سے بات چیت میں مکمل ڈیڈلاک ہے: رانا ثنا اللّٰہ
رانا ثناء اللہ کی پی ٹی آئی کو مشورہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللّٰہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو بطور جماعت اور اپنے بانی کو 9 مئی اور اپنے بیانات سے لاتعلقی کا اظہار کرکے معذرت کرنی چاہیے۔ ایسی صورت میں شاید کوئی راستہ کھلے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر یورپ نے روس کے ساتھ جنگ شروع کرنے کی غلطی کی تو ایسی شکست ہوگی کہ مذاکرات کیلئے بھی کوئی فریق باقی نہیں بچے گا، پیوٹن کی دھمکی
ڈیڈ لاک کی صورتحال
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی اپنے بیانات پر قائم رہتے ہیں تو ڈیڈ لاک برقرار رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی کی پارکنگ میں اوور چارجنگ کرنے پر تین افراد گرفتار
ماضی کی بات چیت کی کوششیں
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ ماضی میں پی ٹی آئی سے بات چیت کی کوشش کی گئی، تاہم بانی پی ٹی آئی کے بیانات کی وجہ سے ڈیڈ لاک کی صورت حال پیدا ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: سپہ سالار کے خلاف مہم کا مقصد پاکستان کو کمزور کرنا ہے، طاہر محمود اشرفی
احتجاج کی حکمت عملی
انہوں نے کہا کہ اگر یہ مستقل معمول بنا لیں گے کہ ہر منگل اور جمعرات کو اڈیالہ کے قریب احتجاج کریں گے تو حکومت بانی پی ٹی آئی کی کسی جیل منتقلی کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈکی بھائی کی رہائی کا پروانہ جاری
اداروں پر تنقید
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے بطور جماعت اور بانی پی ٹی آئی نے ادارے پر براہ راست تنقید کی، اور ادارے کے خلاف بات چیت کو لوگ پسند نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سارک کو مزید فعال بنانا ہوگا: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ڈھاکہ میں عشائیہ سے خطاب، کاروباری شخصیات اور صحافیوں سے گفتگو
بھارت کے ساتھ تعلقات
مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ بھارت ہمارا دشمن ملک ہے، بانی پی ٹی آئی نے پروپیگنڈے میں اس کا ساتھ دیا، پی ٹی آئی سے گفتگو کا کوئی طریقہ کار نہیں اپنایا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد راولپنڈی کے درمیان جدید و تیز رفتار ٹرین، سفر 20 منٹ میں طے ہو گا
بلاول بھٹو کی سیاسی سوچ
رانا ثناء اللّٰہ کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو کی سوچ ہمیشہ سیاسی اور جمہوری حوالے سے واضح رہی ہے۔ انہوں نے ہمیشہ افہام و تفہیم کی بات کی ہے۔
سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت ہونی چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر خود کہہ چکے ہیں کہ سیاسی جماعتیں آپس میں بات کریں۔








