آپ کو یہ پتہ ہے کہ مغوی خاتون کو جنات لے گئے مگر باقی کاموں کا نہیں پتہ؟ لاہور ہائیکورٹ وکیل سے سوال
لاہور ہائی کورٹ میں سماعت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائی کورٹ کی چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کاہنہ سے مبینہ اغوا ہونے والی خاتون کی بازیابی کے لیے درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کی تحویل سے لی گئی فائل خالی ہے، اس میں کچھ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا زمبابوے کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
چیف جسٹس کا اظہار برہمی
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ پولیس کی بری عادت ہے کہ وہ فائل سے کچھ چیزیں نکال لیتی ہے، یہ چیف جسٹس کی عدالت ہے، کوئی مذاق نہیں۔ ایسے غیر سنجیدہ اہلکاروں کو پولیس محکمے میں نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کے سرکاری ملازمین نے صدر، وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ سے ’’دردمندانہ اپیل‘‘ کر دی۔۔کن کن مسائل کی نشاندہی کی گئی؟ جانیے
درخواست گزار کے وکیل سے سوالات
عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے سوال کیا کہ آپ نے مغویہ کا شناختی کارڈ کیوں نہیں بنوایا؟ کوئی دستاویزی ثبوت دیں جس سے ثابت ہو کہ خاتون درخواست گزار کی بیٹی ہے۔ آپ کو یہ پتہ ہے کہ مغوی خاتون کو جنات لے گئے مگر باقی کاموں کا نہیں پتہ؟
عدالت کی ہدایت
عدالت نے پولیس کو 15 روز میں پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔








