فیض حمید کو سزا ادارے کا اندرونی معاملہ ہے، جب سیاسی بات ہوگی تو اس پر بھرپور جواب دیں گے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا بیان
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ فیض حمید ایک ادارے کے ملازم تھے، اگر کسی معاملے پر فیض حمید کو سزا ہوئی ہے تو یہ ان کا اندرونی معاملہ ہے۔ جب سیاسی بات ہوگی تو اس پر بھرپور جواب دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملے میں مارے جانے والے ایرانی جرنیلوں اور ایٹمی سائنسدانوں کے نام سامنے آگئے
اڈیالہ جیل میں ملاقات
بانی پی ٹی آئی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے آئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی پاکستان اور اداروں کی مضبوطی کی بات کرتے ہیں۔ صاحب اختیار لوگ اگر سمجھتے ہیں تو ہمارے ساتھ مذاکرات کریں، مذاکرات کا اختیار بانی نے محمود اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو دیا ہے، محمود خان اچکزئی کے ہر فیصلے کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت ناکام، عدلیہ پر سوالات
حکومت کی کارکردگی
ایک وزیر اعلیٰ کو عدالتی احکامات کے باوجود ملنے نہیں دیا جا رہا۔ پرسوں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کے ساتھ جو ہوا وہ وزیراعلٰی پنجاب کے احکامات پر کیا گیا۔ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ کو ناحق قید رکھا گیا ہے۔ یہ لوگ تصدیق شدہ چور ہیں، جب ہماری حکومت آئے گی تو اس کا حساب کتاب کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کی پاکستان میں فلسطین کے سفیر ڈاکٹر ذہیر زید سے ملاقات
سیاسی ماحول کا تجزیہ
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ساڑھے تین سال سے کوشش کی جارہی ہے کہ مائنس بانی پی ٹی آئی کیا جائے۔ یہ 1947 سے ایک ہی نسخہ بار بار آزماتے ہیں۔ 9 اپریل 2022 سے ان کا واسطہ ایسی قوم سے پڑا ہے جو بانی پی ٹی آئی سے عشق کرتی ہے۔ ہم آزاد عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نیپرا دستاویز نے کے الیکٹرک کی ناقص کارکردگی کا بھانڈا پھوڑ دیا
نوجوانوں کی ہجرت کا مسئلہ
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی کارکردگی یہ ہے کہ نوجوان پاکستان سے بھاگ رہے ہیں۔ ساڑھے تین سال سے کیا جانے والا تجربہ بری طرح ناکام ہو چکا ہے۔
سوشل میڈیا پر بیان
فیض حمید کی سزا ادارے کا اندرونی معاملہ ہے ہم اس پر بات نہیں کریں گے جب یہ سیاسی بات کریں گے تو ہم اس پر بھرپور جواب دیں گے۔
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی pic.twitter.com/w31KIeFkEz
— jameel Khan Kakar ???????? (@jameel37371) December 11, 2025








